رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی صدر کے لیے چار ارب ڈالر مالیت کے نئے طیاروں کا آرڈر


فائل فوٹو

انتہائی جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام سے آراستہ یہ جہاز ماضی کے بیشتر صدور کا پسندیدہ رہا ہے اور خود صدر اوباما بھی اسے "صدر ہونے کے باعث ملنے والی سب سے شاندار سہولت" قرار دے چکے ہیں۔

امریکہ کی حکومت نے معروف طیارہ ساز کمپنی 'بوئنگ' کو دو نئے 'ایئر فورس ون' طیاروں کا آرڈر دے دیا ہے جنہیں امریکی صدر کے زیرِ استعمال طیاروں کے بیڑے میں شامل کیا جائے گا۔

امریکی محکمۂ دفاع 'پینٹاگون' نے 'بوئنگ' کو یہ ٹھیکہ دینے کا اعلان منگل کو کیا ہے جس کی مالیت تین ارب 90 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

حکام کے مطابق 'ایئر فورس ون' کے لیے بوئنگ کے 8-747 ساختہ طیاروں کا انتخاب کیا گیا ہے جن پر سرخ، سفید اور نیلا رنگ کیا جائے گا۔

ٹھیکے کی تفصیلات کے مطابق یہ طیارے امریکی حکومت کو دسمبر 2024ء تک ملیں گے۔

اس کا مطلب ہے کہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ 2020ء میں دوسری مدت کے لیے بھی صدر منتخب ہونے میں کامیاب رہے تو بھی وہ اپنے دورِ صدارت کے آخری چند ماہ ہی ان نئے طیاروں میں سفر کرسکیں گے۔

اس سے قبل یہ اطلاعات آتی رہی ہیں کہ امریکی ایئر فورس بوئنگ کمپنی پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ جلد سے جلد یہ طیارے تیار کرے کیوں کہ امریکی صدر کے زیرِ استعمال موجودہ 'ایئر فورس ون' طیاروں کے پرانے ہونے کے باعث ان کی مرمت اور انہیں پرواز کے قابل رکھنے پر خاصی رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔

ایک وقت میں عموماً دو 'ایئر فورس ون' طیارے امریکی صدر کے زیرِ استعمال ہوتے ہیں۔
ایک وقت میں عموماً دو 'ایئر فورس ون' طیارے امریکی صدر کے زیرِ استعمال ہوتے ہیں۔

'ایئر فورس ون' امریکی صدر کے لیے مخصوص طیارہ ہے جسے وہ اندرون و بیرونِ ملک دوروں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایک وقت میں عموماً دو 'ایئر فورس ون' طیارے امریکی صدر کے زیرِ استعمال ہوتے ہیں۔

امریکی حکومت اور بوئنگ کے درمیان نئے طیاروں کے ٹھیکے کی تفصیلات رواں سال فروری میں از سرِ نو طے پائی تھیں۔

اس سے قبل بوئنگ کو دیے جانے والے ٹھیکے کی مالیت چار ارب ڈالر سے زائد تھی جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے 'ٹوئٹر' پر اپنے ایک پوسٹ میں قیمت کو بہت زیادہ قرار دیا تھا اور حکام سے کہا تھا کہ وہ یہ ٹھیکہ منسوخ کردیں۔

بعد ازاں فروری میں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ بوئنگ کمپنی کے ساتھ نئے ٹھیکے کی شرائط پر اتفاقِ رائے ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں امریکی ٹیکس دہندگان کو لگ بھگ ڈیڑھ ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔

تاہم منگل کو دیے جانے والے ٹھیکے میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ گزشتہ ٹھیکے سے کتنا مختلف ہے اور حکومت کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی بچت کیسے ہوگی۔

امریکی صدر کے زیرِ استعمال 'ایئر فورس ون طیارے' کا شمار دنیا کے جدید اور محفوظ ترین طیاروں میں ہوتا ہے جس "فضاؤں کا وائٹ ہاؤس" بھی کہا جاتا ہے۔

اگر ڈونالڈ ٹرمپ 2020ء میں دوسری مدت کے لیے بھی صدر منتخب ہونے میں کامیاب رہے تو بھی وہ اپنے دورِ صدارت کے آخری چند ماہ ہی ان نئے طیاروں میں سفر کرسکیں گے۔
اگر ڈونالڈ ٹرمپ 2020ء میں دوسری مدت کے لیے بھی صدر منتخب ہونے میں کامیاب رہے تو بھی وہ اپنے دورِ صدارت کے آخری چند ماہ ہی ان نئے طیاروں میں سفر کرسکیں گے۔

انتہائی جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام سے آراستہ یہ جہاز ماضی کے بیشتر صدور کا پسندیدہ رہا ہے اور خود صدر اوباما بھی اسے "صدر ہونے کے باعث ملنے والی سب سے شاندار سہولت" قرار دے چکے ہیں۔

'ایئر فورس ون' کے لیے بوئنگ 8-747 ساختہ طیاروں میں خاص جوہری اور روایتی حملوں سے بچاؤں کا جدید دفاعی نظام، جدید ترین نیوی گیشن اور کمیونی کیشن نظام اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں پر مشتمل ٹیکنالوجی نصب کی جائے گی۔

حکام کے مطابق یہ طیارے بوئنگ کمپنی امریکی ریاست واشنگٹن میں واقع اپنے کارخانوں میں تیار کرے گی۔

امریکی ٹی وی 'سی بی ایس' پر منگل کو نشر کیے جانے والے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا تھاکہ نئے 'ایئر فورس ون' طیاروں کے انٹیریئر میں بھی تبدیلیاں کی جائیں گی اور باہر سے اس کا رنگ بھی مختلف ہوگا۔

صدر جان ایف کینیڈی کے دور سے 'ایئر فورس ون' کے باہر سفید اور نیلے رنگ کے دو مختلف شیڈز پرکا رنگ چلا آرہا ہے جسے اب تبدیل کرکے سفید، نیلا اور لال کردیا جائے گا جو امریکی پرچم کے رنگ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG