رسائی کے لنکس

logo-print

بوکو حرام کی جانب سے مزید حملوں کی دھمکی


بوکو حرام اس سے قبل بھی کئی بار نائجیریا کے عوام کو 28 مارچ کو ہونے والے انتخابات سے دور رہنے کی دھمکی دے چکی ہے۔

نائجیریا میں سرگرم شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے سربراہ نے ملک میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے موقع پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔

منگل کی شب انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں تنظیم کے سربراہ ابو بکر شیخاؤ نے کہا ہے کہ اگر انتخابات کے دوران حملوں کے نتیجے میں بوکو حرام کے جنگجووں کو اپنی جانیں بھی دینا پڑیں تو وہ دریغ نہیں کریں گے۔

بوکو حرام اس سے قبل بھی کئی بار نائجیریا کے عوام کو 28 مارچ کو ہونے والے انتخابات سے دور رہنے کی دھمکی دے چکی ہے۔

انتخابات کے لیے پہلے 14 فروری کی تاریخ مقرر کی گئی تھی لیکن جنگجووں کے متوقع حملوں کے پیشِ نظر نائجیریا کے الیکشن کمیشن نے انتخابات 28 مارچ تک موخر کردیے تھے۔

بوکو حرام کے حملوں میں گزشتہ پانچ سال کے دوران نائجیریا کے ہزاروں عام شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ تنظیم کے جنگجووں نے ملک کے کئی شمال مشرقی دیہات اور قصبوں پر قبضہ کر رکھا ہے جہاں انہوں نے اپنی متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے۔

منگل کو بھی نائجیریا کے تین مختلف مقامات پر ہونے والے بم دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ان میں سے ایک حملہ جنوبی قصبے اوکریکا میں حزبِ اختلاف کی جماعت 'اے پی سی' کی انتخابی ریلی پہ کیا گیا تھا۔

انتخابی مبصرین کا خیال ہے کہ 'اے پی سی' صدر گڈلک جوناتھن اور ان کی جماعت 'پی ڈی پی' کو آئندہ انتخابات میں مشکل سے دوچار کرسکتی ہے۔

نائجیریا کے کئی حلقے بوکو حرام پر قابو پانے میں ناکامی کے باعث صدر جوناتھن کی حکومت سے نالاں ہیں اور بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نائجیرین حکومت عوام کے اس مزاج سے آگاہ ہونے کے سبب انتخابی عمل کو تاخیر کا شکار کر رہی ہے۔

اسی دوران نائجیرین فوج نے مختلف کاروائیوں میں بوکو حرام کے 300 سے زائد جنگجووں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

نائجیرین فوج کے ایک ترجمان نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ فوج نے رواں ہفتے کے دوران 11 قصبوں اور دیہات کا قبضہ جنگجووں سے چھڑالیا ہے جس کے دوران لڑائی میں 300 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران فوج نے کئی جنگجووں کو گرفتار بھی کیا ہے اور بڑی تعداد میں ہتھیار قبضے میں لے لیے ہیں۔

نائجیرین فوج کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

XS
SM
MD
LG