رسائی کے لنکس

logo-print

کیمرون: بوکو حرام نے دس چینی انجینیئرز 'اغواء' کر لیے


شمالی خطے کے گورنر اواح اگسٹائن کا کہنا تھا کہ کیمرون کے فوجیوں کو فوری طور پر نائیجیریا کے ساتھ سرحد پر تعینات کر دیا گیا تاکہ حملہ آوروں کے یہاں سے فرار کو روکا جاسکے۔

کیمرون میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شدت پسند گروپ بوکو حرام نے ملک کے شمالی خطے میں حملہ کر کے دس چینی انجینیئرز کو اغواء اور ایک مقامی فوجی کو ہلاک کر دیا۔

وازا نامی علاقے میں مقامی لوگوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ حملہ آور نصف شب کے قریب ایک قافلے کی صورت یہاں آئے اور فائرنگ شروع کردی۔

ایک مقامی رہائشی جبریلا ٹوکیور نے بتایا کہ حملہ آوروں نے سڑک کی تعمیر سے منسلک چینی انجینیئرز کے کیمپ کے قریب فائرنگ کر کے کیمرون کے ایک فوجی کو ہلاک کردیا اور انجینیئرز کو ان کی گاڑیوں سمیت یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

شمالی خطے کے گورنر اواح اگسٹائن کا کہنا تھا کہ کیمرون کے فوجیوں کو فوری طور پر نائیجیریا کے ساتھ سرحد پر تعینات کر دیا گیا تاکہ حملہ آوروں کے یہاں سے فرار کو روکا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض حملہ آور ابھی کیمرون میں ہی موجود ہیں۔

"متعدد گرفتاریاں ہوئی ہیں، تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور دارالحکومت سے مزید نفری فراہم کرنے کی درخواست کر دی گئی ہے۔"

وازا نامی علاقہ کیمرون کے وازا نیشنل پارک کے ساتھ واقع ہے جو کہ سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے۔ گزشتہ سال یہاں فرانس سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے سات افراد کو اغواء کر لیا گیا تھا۔

رواں ماہ کے اوائل ہی میں بوکو حرام نے وازا سے 60 کلومیٹر دور واقع ایک فوجی پوسٹ پر حملہ کر کے تین فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا اور اپنے ایک ساتھ کو یہاں سے چھڑوا کر لے گئے تھے۔

غیر ملکیوں کے اغواء کا یہ تازہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب ہفتہ ہی کو پیرس میں پانچ سربراہان مملکت کا ایک اجلاس ہوا جس میں بوکوحرام سے نمٹنے کے لیے ایک حکمت عملی وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG