رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردوں کے خلاف عالمی برادری مدد کرے: کیمرون


کیمرون میں حکام نے کہا ہے کہ سرحد پار نائیجیریا سے آنے والے بوکو حرام کے شدت پسندوں نے کم از کم 60 افراد کو اغوا کر لیا ہے۔

کیمرون کے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو اسلامی شدت پسند تنطیم بوکو حرام کی بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے بین لااقوامی حمایت کی ضرورت ہے۔

وزیرعیسیٰ ٹچروما بیکرے نے شدت پسندوں کے خلاف لڑنے کے لیے چاڈ کی حکومت کی طرف سے فوجی بھجوانے کے فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا۔

انھوں نے کہا کہ خاص طور مغربی ممالک بھی اس سلسلے میں اُن کے ملک کی مدد کریں گے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب کہ کیمرون میں حکام نے کہا ہے کہ سرحد پار نائیجیریا سے آنے والے بوکو حرام کے شدت پسندوں نے کم از کم 60 افراد کو اغوا کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق ان حملہ آوروں نے لگ بھگ 80 گھروں کو نذر آتش کر دیا جب کہ انھیں روکنے کی کوشش کرنے والے متعدد افراد کو عسکریت پسندوں نے ہلاک کر دیا۔

کیمرون کے وزیر اطلاعات عیسیٰ کروما باکرے نے اغوا کاروں کو وحشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں کوئی بھی قتل و غارت گری سے نہیں روک سکا۔

اغوا کیے جانے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور اس واقعے سے ایک روز قبل ہی چاڈ نے بوکو حرام کے خلاف کارروائیوں کے لیے ہزاروں فوجی کیمرون بھیجے تھے۔

نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے اس شدت پسند گروہ نے دیگر پڑوسی ملکوں میں بھی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اور اسے خطے کے لیے تیزی سے بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بوکو حرام نے حال ہی میں نائیجیریا اور چاڈ کے درمیان سرحدی علاقے پر تسلط حاصل کر لیا تھا اور چاڈ جھیل کے قریب ایک فوجی اڈے پر قبضہ کرتے ہوئے متعدد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

دریں اثناء نائیجیریا میں ایک خودکش بم دھماکے میں کم ازکم چار افراد اور 25 زخمی ہو گئے۔

مقامی پولیس حکام کے مطابق اتوار کو شمالی شہر پوٹسکم کے ایک بس اڈے پر حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی میں دھماکا کیا۔

فوری طور پر اس واقعے کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن ایسے واقعات کا شبہ بوکو حرام پر ہی ظاہر کیا جاتا ہے جو پہلے بھی بس اڈوں اور عوامی مقامات پر ہلاکت خیز کارروائیاں کرتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG