رسائی کے لنکس

logo-print

بوکو حرام نے کیمرون کے سات یرغمالی ہلاک کر دیے: عینی شاہدین


ایک عینی شاہد کے مطابق اغواء کاروں نے تین معمر عورتوں کو چھوڑ دیا تاہم اب بھی 10 افراد کو اُنھوں نے یرغمال بنا رکھا ہے جن میں آٹھ لڑکیاں ہیں جن کی عمریں 11 سال سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے مشتبہ جنگجوؤں نے کیمرون میں ایک بس سے یرغمال بنائے گئے مسافروں میں سے بعض کو ہلاک کر دیا ہے۔

عینی شاہدین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اغوا کاروں نے 20 مغوی افراد میں سے سات کو ہلاک کرنے کے بعد اُن کی لاشوں کو نائیجیریا کی سرحد کے قریب کیمرون کی مشرقی سرحد کے قریب پھینک دیں۔

علاقے میں سرکاری اسکول کے پرنسپل چتیما ہمیدو نے بتایا کہ اُن کا بھائی جو بس چلا رہا تھا، وہ اُنھیں ملا اور اس کا ایک ہاتھ اور ٹانگ کٹی ہوئی تھی۔

اُنھوں نے بتایا کہ اغواء کاروں نے تین معمر عورتوں کو چھوڑ دیا تاہم اب بھی 10 افراد کو اُنھوں نے یرغمال بنا رکھا ہے جن میں آٹھ لڑکیاں ہیں جن کی عمریں 11 سال سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

کیمرون فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ایک مقامی گورنر نے لاشوں کو پھینکنے کی تصدیق کی، لیکن اُن کے بقول ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

کیمرون اُن تین افریقی ممالک میں سے ایک ہے جس کی فوجیں شدت پسند تنظیم بوکو حرام سے لڑائی میں مصروف ہیں۔

نائیجیریا، نائیجر، چاڈ، کیمرون اور بینن بوکو حرام سے لڑنے کے لیے 8,700 اہلکاروں پر مشتمل ایک علاقائی فورس بنا رہے ہیں۔

بوکو حرام کے جنگجو 2009 سے ہزاروں افراد کو ہلاک کر چکے ہیں اور نائیجیریا کے شمالی مشرق میں اس تنظیم نے درجنوں قصبوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG