رسائی کے لنکس

logo-print

نائجیریا: بوکو حرام کا ایک اور حملہ، 15 افراد ہلاک


حملے کا نشانہ بننے والا قصبہ چیبوک نامی اس گاؤں سے محض 10 کلومیٹر دور ہے جہاں سے شدت پسندوں نے رواں سال اپریل میں 200 سے زائد طالبات کو اغوا کرلیا تھا۔

نائجیریا کے شمال مشرقی علاقے کے ایک قصبے پر شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق شدت پسندوں نے کیمرون کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے کوٹی کاری پر پیر کی شب حملہ کیا تھا۔

علاقے کے ایک رہائشی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد لگ بھگ 20 تھی اور وہ بھاری اسلحے سے لیس تھے۔

رہائشی جونا عمراؤ کے مطابق گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے قصبے کی گلیوں اور بازاروں میں اندھا دھند فائرنگ کی جس سے کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حملے کا نشانہ بننے والا قصبہ چیبوک نامی اس گاؤں سے محض 10 کلومیٹر دور ہے جہاں سے شدت پسندوں نے رواں سال اپریل میں 200 سے زائد طالبات کو اغوا کرلیا تھا۔

ان طالبات میں سے بیشتر کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔ چند ماہ قبل شدت پسندوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی ان طالبات نے اسلام قبول کرلیا ہے جس کے بعد ان کے بوکو حرام کے جنگجووں کے ساتھ نکاح پڑھا دیے گئے ہیں۔

بوکو حرام کے جنگجووں نے رواں ماہ بھی اس علاقے میں ایک کارروائی کے دوران 35 افراد کو ہلاک اور 172 خواتین اور بچوں کو اغوا کرلیا تھا جنہیں تاحال بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔

ایک امریکی تھنک ٹینک کے مطابق نائجیریا میں اپنے تئیں اسلامی خلافت کے قیام کے لیے کوشاں بوکو حرام کے پرتشدد حملوں میں رواں سال اب تک لگ بھگ ساڑھے دس ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

شدت پسند تنظیم اس لحاظ سے بھی بدنام ہے کہ اس کے جنگجو سرکاری اور فوجی تنصیبات کے علاوہ نائجیریا کے دور دراز کے دیہات پر حملے کرکے عام شہریوں کا بھی قتلِ عام کرتے ہیں۔

تنظیم کی کارروائیوں سے سب سے زیادہ نائجیریا کا شمال مشرقی علاقہ متاثر ہورہا ہے جہاں سے اب تک 10 لاکھ افراد محفوظ مقامات کی جانب ہجرت کرچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG