رسائی کے لنکس

logo-print

بولیویا کی امریکی سفارت خانہ بند کرنے کی دھمکی


جنوبی امریکی ممالک کے صدور نے 12 جولائی کو اپنا ایک اور اجلاس یوراگوئے میں طلب کیا ہے جس میں بولیوین صدر کے ساتھ بدسلوکی کے معاملے پر مزید غور کیا جائے گا۔

بولیویا کے صدر ایوو موریلز نے یورپ میں تلاشی کی غرض سے اپنا طیارہ روکنے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے دارالحکومت لا پاز میں قائم امریکی سفارت خانہ بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

جمعرات کو لاطینی امریکی ممالک ارجنٹینا، ایکواڈور، سرینام، یوراگوئے اور وینزویلا کے صدور نے بولیویا کے شہر کوچابمبا صدر موریلز سے ملاقات کی اور طیارہ روکے جانے کے واقعے پر ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

ملاقات کے بعد لاطینی ممالک کے صدور نے فرانس، اٹلی، پرتگال اور اسپین کے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صدر موریلز کے طیارے کو اپنی حدود سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کے واقعے پر معافی مانگیں۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے روس کے دورے سے واپسی پر صدر موریلز کے طیارے کو امریکہ کے سابق انٹیلی جنس اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی موجودگی کے شبہ میں آسٹریا میں زبردستی اتار لیا گیا تھا۔

تاہم بولیوین صدر اور ان کے عملے کے سخت احتجاج کے سبب آسٹریا کے حکام ان کے طیارے کی تلاشی نہیں لے سکے تھے لیکن اس تنازع کے باعث صدر موریلز کو 12 گھنٹے تک آسٹریا میں ہی ٹہرنا پڑا تھا۔

اپنے دورہ روس کے دوران میں صدر موریلز نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایڈورڈ سنوڈن نے ان کے ملک سے سیاسی پناہ دینے کی درخواست کی تو وہ اس پر غور کریں گے۔

سنوڈن گزشتہ دو ہفتوں سے ماسکو کے ہوائی اڈے کے ٹرانزٹ لائونج میں موجود ہیں اور ان کے اس بیان کے بعد مغربی حکومتوں کو مبینہ طور پر یہ اطلاعات ملی تھیں کہ صدر موریلز دورہ ماسکو سے واپسی پر سنوڈن کو اپنے ساتھ ہی بولیویا لے جاسکتے ہیں۔

سنوڈن کی موجودگی کے شبہ میں فرانس اور پرتگال نے صدر موریلز کے طیارے کو اپنی حدود سے گزرنے سے روک دیا تھا جس کے باعث ان کے طیارے کو آسٹریا میں اترنا پڑا تھا۔

یہ منگل کو پیش آنے والے اس واقعے کو بولیوین صدر نے عالمی قوانین کے سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ بعد ازاں ایڈورڈ سنوڈن کی طیارے میں موجودگی سے متعلق شبہ دور ہونے پر آسٹریا کے مقامی حکام نے 12 گھنٹے بعد صدر کے طیارے کو پرواز کی اجازت دیدی تھی۔

صدر موریلز نے الزام عائد کیا ہے کہ یورپی حکومتوں کی جانب سے ان کے طیارے کو فضائی حدود میں داخلے کی اجازت نہ دینے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔

خبر رساں ادارے 'بلومبرگ' کے مطابق جنوبی امریکی ممالک کے صدور نے 12 جولائی کو اپنا ایک اور اجلاس یوراگوئے میں طلب کیا ہے جس میں اس معاملے پر مزید غور کیا جائے گا۔

امریکی خفیہ ایجنسی کی جانب سے عام شہریوں کی ٹیلی فون کالوں کی نگرانی اور یورپی ممالک کی جاسوسی کرنے سے متعلق راز افشا کرنے پر امریکہ میں سنوڈن کےخلاف غداری کے الزام کے تحت تحقیقات کی جارہی ہیں۔

امریکی حکام روس سے سنوڈن کو امریکہ بدر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس سے روسی حکومت انکار کرچکی ہے۔
XS
SM
MD
LG