رسائی کے لنکس

پاک بھارت کشیدگی نے فنکاروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا


بھارت کی ایک سیاسی جماعت ’مہاراشٹر نو نرمان سینا‘ نے حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے بھارت میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں کو 48 گھنٹے کے اندر اندر ملک چھوڑ جانے کا الٹی میٹم دے دیا تھا۔

رواں ماہ کی 18 تاریخ کو اڑی حملے کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔ دونوں جانب کے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے آنے والے سخت بیانات کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور اب رفتہ رفتہ فنکار بھی اس کی لپیٹ میں آتے جا رہے ہیں۔

حملے کے بعد بھارت کی ایک سیاسی جماعت ’مہاراشٹر نو نرمان سینا‘ جس کی سربراہی راج ٹھاکرے کے پاس ہے، اس نے حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے بھارت میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں کو 48 گھنٹے کے اندر اندر ملک چھوڑ جانے کا الٹی میٹم دے دیا تھا۔ اس الٹی میٹم کے بعد بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیشتر فنکار بھارت چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

بدھ کے روز مہاراشٹر نونرمان سینا کی ذیلی تنظیم ’مہاراشٹر نو نرمان چترپٹ کرم چاری سینا‘ کے صدر، امیے کوپکر نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمارے الٹی میٹم کے بعد، پاکستانی فنکار یا تو بھارت چھوڑ کر پاکستان واپس چلے گئے یا پھر دبئی۔ اس وقت یہاں کوئی پاکستانی فنکار موجود نہیں۔ لیکن، ہمارا احتجاج ابھی ختم نہیں ہوا۔ زی چینل کے سربراہ سبھاش چندرجی سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ ’زندگی‘ چینل سے نشر ہونے والے تمام پاکستانی سیریلز دکھانا فوری طور پر بند کردیں۔ ‘‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’یہی بات ہم نے ’کلر‘ چینل کے مالک پہلاج نہلانی سے بھی کہی ہے کہ وہ ’کامیڈی نائٹس بچاؤ‘ اور’بگ باس‘ جیسے پروگراموں میں کسی بھی پاکستانی فنکار کو کام نہ دیں۔ ہمارے ہی مطالبے پر ’ریڈیو مرچی‘ نے عاطف اسلم کا پروگرام بند کیا ہے۔ ہمارا احتجاج سنیما اور آرٹ کے خلاف نہیں پاکستانی فنکاروں کے خلاف ہے جن میں سے کسی ایک نے بھی اڑی حملے کی آج تک مذمت نہیں کی۔‘‘

پاکستانی فنکاروں کے حمایتی بھارتی فنکار
اگرچہ بعض سیاسی جماعتیں پاکستانی فنکاروں کو فلموں میں کام دینے کے حق میں نہیں۔ لیکن، متعدد بھارتی فنکار اب بھی یہی چاہتے ہیں کہ فن اور فنکار کو سرحدوں سے آزاد تسلیم کیا جانا چاہئے۔ مثلاً سیف علی خان جن کی گزشتہ برس ریلیز ہونے والی فلم’ فینٹم‘ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت نہیں ملی۔ لیکن، ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ فیصلہ حکومت پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ کس فنکار کو ملک میں کام کرنے اجازت دے یا نہ دے۔ ‘‘

سیف علی خان کا کہنا ہے کہ ’’دونوں ممالک کے درمیان کلچر کے فروغ کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ ہماری انڈسڑی کے دروازے دنیا بھر کے ٹیلنٹ کے لئے کھلے ہیں۔ ہم فنکار ہیں اور فنکاروں کو پیار اور امن کا پیغام دینا ہوگا۔‘‘

سیف علی خان سے قبل کرن جوہر اور مہیش بھٹ بھی بھارتی فنکاروں کےحق میں آواز بلند کرچکے ہیں، حالانکہ کرن جوہر کو اس کے بدلے دھمکیاں بھی ملیں یہاں تک کہ ان کی رہائش گاہ پر پولیس بھی تعینات کرنا پڑی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کرن جوہر نے بیان دیا تھا کہ اڑی حملے کے بعد بھارتیوں میں پائے جانے والے غصے اور غم کو وہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن، پاکستانی اداکاروں پر پابندی دہشت گردی جیسے مسئلے کا حل نہیں ہے، کیونکہ فن اور فنکاروں کو قید نہیں کیا جا سکتا۔

بدھ کے روز بالی ووڈ کے سپر اسٹار بھی پاکستانی فنکاروں کی حمایت میں بول پڑے۔ دبنگ خان نےراج ٹھاکرے کو ٹیلی فون پر طیش میں نہ آنے کا مشورہ اور فواد خان و ماہرہ خان کی فلموں کی ریلیز کی مخالفت ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلموں کی ریلیز روکنا مناسب اقدام نہیں۔‘

کشیدگی کے باعث کروڑوں کے سودے داؤ پر
کشیدگی کے سبب دونوں طرف کے سرمایہ کاروں اور سنیما مالکان سمیت درجنوں افراد کے کروڑوں کے سودے داؤ پر لگ گئے ہیں۔ ایک جانب ایک کے بعد ایک میوزیکل کنسرٹس منسوخ ہو رہے ہیں تو دوسری جانب فلموں کی نمائش روک دی گئی ہے۔

پاکستان میں فلم ’ای ایس دھونی‘ ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ
آئی ایم جی سی گلوبل انٹرٹیمنٹ نامی پاکستانی فلم ڈسٹری بیوشن کمپنی کے حوالے سے انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ دو طرفہ کشیدگی، فنکاروں کو ملنے والے الٹی میٹم اور کام نہ دیئے جانے کی تنبہہ کے بعد پاکستانی ڈسٹری بیوٹرز نے بھارتی کرکٹر کی زندگی پر بننے والی فلم ’ایم ایس دھونی‘ ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلم دو دن بعد یعنی جمعہ کو پاکستان بھر میں ریلیز ہونا تھی مگر کمپنی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’’بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب یہی فیصلہ بہتر ہے کہ ہم فلم ریلیز نہ کریں ۔‘‘

تمام میوزیکل کنسرٹ منسوخ
پاکستان، دنیا میں بھارتی فلموں کی تیسری بڑی مارکیٹ ہے۔ کشیدگی کے سبب فلموں کی ریلیز بند ہوئی تو کروڑوں روپے کا ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔ پہلے ہی کمار سانو کا لاہور میں ہونے والا میوزیکل کنسرٹ منسوخ ہوچکا ہے تو دوسری جانب پاکستان فنکار شفقت امانت علی نے بھی بنگلور میں ہونے والا اپنے کنسرٹ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ جن فلموں میں پاکستانی فنکار ہوں گے انہیں بھارت میں ریلیز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس اعلان سے پاکستانی فنکار فواد خان کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ اور شاہ رخ خان کی ’رئیس‘ کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔’رئیس‘ میں پاکستانی فنکارہ مائرہ خان نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

کشمیر کی آزادی تک بھارتی فلموں پر پابندی کا مطالبہ
ادھر لاہور ہائی کورٹ میں بھی 23 ستمبر کو بھارتی فلموں کے پاکستان میں ریلیز کئے جانے پر پابندی لگانے سے متعلق ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا اس وقت تک بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش پر پابندی لگائی جائے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان فلموں کی نمائش سے پاکستانی اور کشمیری عوام کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG