رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور بھارت کی’ساجھی‘ اداکارہ: سارہ لورین


مونا لیزا کے نام سے آپ انہیں پاکستانی ڈراموں میں اداکاری کرتے ہوئے دیکھ چکے ہیں، جبکہ اب مونا بھارتی فلموں میں سارہ لورین کے نام سے کام کررہی ہیں

کراچی ۔۔۔۔۔ آپ ’سارہ لورین‘ کا نام اور ’مونا لیزا‘ کی تصویر دیکھ کر پریشان تو نہیں۔۔۔؟ یا یہ تو نہیں سوچ رہے کہ تصویر کسی اور کی اور نام کسی اور اداکارہ کا ہے؟

کنفیوز نہ ہوں۔ دراصل، یہ ایک ہی اداکارہ کے دو نام ہیں۔ مونا لیزا کے نام سے آپ انہیں پاکستانی ڈراموں میں اداکاری کرتے ہوئے دیکھ چکے ہیں، جبکہ اب مونا بھارتی فلموں میں سارہ لورین کے نام سے کام کر رہی ہیں۔

سارہ کی حالیہ فلم، جس کے پچھلے دنوں خاصے چرچے رہے وہ ’مرڈر تھری‘ تھی، جسے پوجا بھٹ نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ مہیش بھٹ، مکیش بھٹ اور پوجا بھٹ کا نام کسی فلم سے جڑا ہو اور وہ شہ سرخیوں میں نہ آئے ایسا تصور ذرا مشکل ہے۔ چنانچہ، ’مرڈر تھری‘ ہیڈلائنز کی زینت بنی، اسے شہرت ملی اور اس کے ساتھ ساتھ ہی، سارہ لورین بھی سب کے لئے جانا پہچانا نام بن گئیں۔

سارہ نے پاکستانی فلم ساز سید فیصل بخاری کی فلم ’سلطنت‘ میں آئٹم گرل کا کردار ادا کیا تھا، جسے دیکھ کر بہت سے بھارتی فلم سازوں نے انہیں اپنی اپنی فلموں میں آئٹم سانگز کرنے کی پیشکش کی۔ لیکن، اپنے ایک تارہ ترین انٹرویو میں آئٹم سانگز کے حوالے سے سارہ لورین کا کہنا ہے:

’بالی ووڈ فلموں میں آئٹم سانگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ کرینہ کپور اور کترینہ کیف نے اپنی اپنی فلموں میں آئٹم سانگ کیے تو یہ ان کی اپنی چوائس تھی مگر میں ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ بہت سے پروڈیوسرز مجھے آئٹم سانگز کی پیشکش کرچکے ہیں، لیکن مجھے یہ آفرز منظور نہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں سارہ لورین کا کہنا تھا کہ ’بگ باس‘ میں جانے کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

اُن کے بقول، ’اگر آفر ملی تب بھی نہیں جاوٴں گی۔ میرے نزدیک پروگرام میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو ایشو بنایا جاتا ہے یا پھر سستی شہرت کے لئے ایک دوسرے سے محبت کا ’ڈرامہ‘ رچا جاتا ہے۔ میں ترقی کے لئے شارٹ کٹ کی قائل نہیں۔‘

سارہ لورین پاکستانی فلم ’سلطنت‘ کے علاوہ اداکارہ ریما کے ڈائریکشن میں بنی فلم ’لو میں گم‘ اور نامور پاکستانی ڈائریکٹر شمون عباسی کی فلم ’گدھ‘ میں بھی پرفارم کر چکی ہیں۔ اس فلم میں سید جبران، ہمایوں سعید اور عائشہ خان نے بھی اداکاری کی تھی۔

پاکستانی فلموں کے حوالے سے ان کی رائے یہ ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ ’درست سمت میں آگے بڑھنے کیلئے وسائل کی کمی ہے۔ البتہ، ٹی وی ڈراموں کو شروع ہی سے عروج ملا ہے۔ کئی پاکستانی ڈرامے میرے کریڈیٹ پر ہیں اور مجھے ان میں کام کرنے پر فخر ہے۔‘

ایک اور بھارتی فلم ’کجرارے‘ میں کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا۔ اس حوالے سے وہ بتاتی ہیں، ’پوجابھٹ اور مہیش بھٹ سے بہت کچھ سیکھنے کوملا‘ خاص کر اداکاری کے ہنر کو پالیش کرنے کا سنہری موقع۔ میں نئے پروجیکٹ کے لئے آئندہ برس ممبئی جاوٴں گی جہاں بڑے بینرز کی دو نئی فلمیں سائن کروں گی۔ ان فلموں میں، میں لیڈنگ رول کررہی ہوں۔ ‘

پس منظر

سارہ لورین کی تاریخ پیدائش 11دسمبر 1985ہے۔ ان کا پیدائشی نام مولا لیزا ہے۔ وہ کویت میں مقیم ایک پاکستانی فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ سنہ 2001 میں اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ دیگر فیملی ممبرز کے ہمراہ پاکستان شفٹ ہوئیں جہاں انہوں نے اپنے لئے اداکاری کا میدان چنا۔

ایک بھارتی ویب سائٹ ’کوئی موئی ڈاٹ کام‘ کے مطابق انہیں اداکاری کے ساتھ ساتھ مصوری، شاعری اور لکھنے لکھانے کا بھی شوق ہے۔ سنہ2012 میں انہوں نے اپنا نام ’مونالیزا‘ سے بدل کر ’سارہ لورین‘ رکھا۔ ویب سائٹ کے مطابق وہ اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لئے ممبئی پہنچی تھیں جہاں سب سے پہلے انہیں ایک اشتہاری مہم میں کام کرنے کا موقع ملا۔

سنہ 2003 میں سارہ کو پہلے ٹی وی سیریل ’رضیہ زندہ ہے‘ میں کام کی آفر ہوئی۔ اس سیریل کو ایس سلیمان نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ اسی ڈرامے کی بدولت انہیں کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ جاکر بھی کام کرنے کا موقع ملا۔

سارہ ’شاید اسی کا نام محبت ہے’ ، ’انار کلی‘ اور ’شیفتہ‘ جیسے تھیٹر پلے بھی کرچکی ہیں جو کراچی اور دہلی کے اسٹیج پر شہرت حاصل کرچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG