رسائی کے لنکس

بلوچستان میں دوسرے روز بھی دو دھماکے، ایک شخص ہلاک


گزشتہ روز بھی ضلع پنجگور خیر آباد میں دستی بم کا حملہ ہوا تھا جس میں دو خواتین (ماں اور بیٹی) ہلاک اور اُن کا بیٹا زخمی ہوگیا تھا ۔

بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں پیر کو دوسرے روز ہونے والے دو دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور 8 دیگر زخمی ہوگئے ۔

ضلع پنجگور کے ایک پولیس افسر اللہ بخش نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پنجگور بازار کے مرکزی علاقے بسم اللہ چوک پر نا معلوم شرپسندوں نے مو ٹر سائیکل میں دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا تھا جب اُس علاقے سے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے والے ایک قبائلی سربراہ کامران مینگل گاڑی میں اپنے بھائی کے ساتھ گزر رہے تھے تو اُس وقت اُن کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس کی زد میں آکر کامر ان مینگل کے چھوٹے بھائی موقع پر ہلاک اور وہ خود شدید زخمی ہوگئے۔

دھماکے سے 6 دیگر شہر ی بھی زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر پنجگور کے مقامی ضلع اسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں سے شدید زخمی کامران مینگل کو کو ئٹہ کے لئے روانہ کیا گیا۔ دھماکے سے بازار کی کچھ دُکانوں کو بھی نقصان پہنچا ۔

پولیس حکام کے بقول قبائلی رہنما علاقے میں امن وامان کی صورتحال قائم رکھنے کے لئے انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کر تے رہے ہیں جس کی بناءپر اس سے پہلے اُن کے خاندان کے بعض افراد کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔

ڈی پی او کے بقول دھماکے کے بعد علاقے کو گھیر ے میں لے کر سرچ اپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر اُن سے اس واقعہ کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے ۔

دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے مکران ڈویژن میں ہونے والے بیشتر دھماکوں کی ذمہ داری بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہی ہیں۔

گزشتہ روز بھی ضلع پنجگور خیر آباد میں دستی بم کا حملہ ہوا تھا جس میں دو خواتین (ماں اور بیٹی) ہلاک اور اُن کا بیٹا زخمی ہوگیا تھا ۔

اُدھر ضلع خضدار کے بازار آغا سلطان ابراہیم روڈ سڑک کے درمیان میں نصب کئے گئے بارود ی مواد میں دھماکے سے ایک شخص زخمی ہوگیا جس کو خضدار کے سر کاری اسپتال میں منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی حالت خطرے سے باہر بتائی ہے ۔

بلوچستان میں اس سے پہلے بھی صوبے کے دور دراز علاقوں میں حکومت اور سیکورٹی اداروں سے تعاون کرنے والے قبائلی سر براہوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں حکومت کی حمایت کرنے والے ایک قبائلی سربراہ کے خاندان کے افراد پرآئی ای ڈی کے ذریعے حملے میں سات افراد اور 2015 میں ضلع بولان کے علاقے مارواڑ میں ایک قبائلی سر براہ پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG