رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: بارڈر سیکورٹی کے ساڑھے چار ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کا مطالبہ


میکسکو - امریکہ کی سرحد پر اکھٹے ہونے والے تارکین وطن اشک آور گیس سے بچنے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔ 25 نومبر 2018

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر پناہ کے خواہش مند تارکین وطن کے ریلے سے نمٹنے کے لیے کانگریس سے ساڑھے چار ارب ڈالر کے اضافی ہنگامی فنڈز کی درخواست کی ہے۔ یہ درخواست، امیگریشن پر حالیہ انتظامی اقدامات کے بعد، جس میں تارکین وطن پر نئی پابندیاں بھی شامل ہیں، ڈیموکریٹکس کے ساتھ جاری کشیدگیوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے اضافی ہنگامی فنڈز کے لیے ساڑھے چار ارب ڈالر کی درخواست کی ہے تاکہ وہ اس مسئلے سے نمٹ سکے جسے وہ تارکین وطن سے منسلک انسانی ہمددردی کا بحران کہتی ہے۔ ہوم لینڈ سیکورٹی کے قائم مقام وزیر کیون میکلی نن نے یہ بات منگل کے روز کانگریس میں اپنے بیان میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جس سطح کی صورت حال کا سامنا ہے، اس کے پیش نظر ہمارے وسائل موجودہ مالی سال کے اختتام سے قبل ہی ختم ہو جائیں گے۔

اس ہفتے کے شروع میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بار پھر پناہ کے بہت سے خواہش مندوں اور ان افراد کے محرکات کے بارے میں سوال اٹھائے تھے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ اپنے ملکوں میں جنگ، تشدد یا سیاسی ظلم و ستم سے بچنے کے لیے فرار ہو کر امریکہ میں جانے کے خواہش مند ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ایڈوائزر کیلی نن کونوے کا کہنا تھا کہ اس طرح کا دعویٰ کرنے والا ہر شخص سچا نہیں ہے۔ کچھ دعوے مستند ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ جن کے دعوے مستند ہیں، وہ ان لوگوں کی وجہ سے ضابطے کی کارروائیوں سے متاثر ہوں جو جھوٹ بول رہے ہیں۔

2018 میں 65 ہزار لوگوں نے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔ اس بڑھتی ہوئی تعداد میں کمی کے لیے صدر ٹرمپ نے عہدے داروں کو یہ حکم دیا کہ وہ 90 روز کے اندر موجودہ قانون کو سخت تر بنانے کے لیے ان میں نئی شقیں شامل کریں۔

ان تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ورک پرمٹ کا حصول مشکل تر بنا دیا جائے۔ اور اسائلم کی درخواست کی فیس مقرر کر دی جائے۔ یہ اقدام قانونی تو ہے لیکن ایسا پہلے کبھی ہوا نہیں۔

امیگریشن قوانین کی ایک ماہر مارلا مک کانڈرز کہتی ہیں کہ ہم میں سے اکثر کو معلوم ہے کہ پناہ گزین اور اسائلم کی کوشش کرنے والے عموماً بہت کمزور طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی اکثریت اپنی جانیں بچانے کے لیے اکثر اوقات ایسی صورت حال میں اپنے علاقوں سے فرار ہوتی ہے کہ ان کے پاس کوئی نقدی وغیرہ نہیں ہوتی۔

انتظامیہ اپنی پالیسیوں کے لیے انسانی ہمدردی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتی ہے۔ تاہم اسکالرز کہتے ہیں کہ جب سے ٹرمپ نے منصب سنبھالا ہے انہوں نے اس مسئلے پر گہرا اختلاف دیکھا ہے۔

یونیورسٹی آف بفلو کے قانون کے پروفیسر رک سو کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں سسٹم میں موجود سقم سے کچھ لوگ غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو اسے روکا جانا چاہیے۔

ٹرمپ نے 2016 میں سخت تر امیگریشن کے وعدے پر صدراتی انتخاب جیتا تھا اور وہ اپنے عہدے کی دوسری مدت کے لیے الیکشن میں جانے سے پہلے اپنے کچھ وعدے پورے کرنا چاہتے ہیں۔

اگرچہ اضافی ہنگامی فنڈز کی درخواست میں سرحد پر دیوار کی تعمیر کی رقم شامل نہیں ہے، جو صدر ٹرمپ کا ایک اہم انتخابی وعدہ تھا، تاہم پھر بھی یہ امکان دکھائی نہیں دیتا کہ ڈیمو کریٹک کنٹرول کا ایوان نمائندگان کسی ردوبدل کے بغیر اس درخواست کی منظوری دے گا۔

یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ امیگریشن سے متعلق صدر ٹرمپ کی تجاویز کو عدالت میں چیلنج کر دیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG