رسائی کے لنکس

logo-print

بوسٹن حملہ کیس: زوخار پر پولیس اہل کار کے قتل کا مقدمہ


زوخار اور تمرلان پر الزام تھا کہ دیسی ساختہ پریشر کُکر بم استعمال کرتے ہوئے اُنھوں نے تین افراد کو ہلاک اور 264کو زخمی کیا؛ جِس کے تین روز بعد، اُنھوں نے مبینہ طور پر میساچیوسٹس کے کیمبرج علاقے میں ایک پولیس افسر کو گولی مار کر ہلاک کیا

پیر کے روز میساچیوسٹس کے مقامی استغاثے نے بوسٹن میراتھون کے مبینہ حملہ آور، زوخار سارنیف کے خلاف ایک اور مقدمے میں جلد از جلد فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جِس میں بم حملے کے تین روز بعد یونیورسٹی کےایک پولیس افسر کے قتل کا مقدمہ شامل ہے۔

مڈل سیکس کاؤنٹی کی اعلیٰ عدالت کی میجسٹریٹ، مشیل سلیوان نے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ زوخار کے خلاف ضابطہٴکار کا وارنٹ جاری کیا جائے، جس میں اِس 20برس کے چیچن کو پابند کیا جائے کہ 18اپریل کو میساچیوسٹس کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پولیس افسر، شین کولیئر کی ہلاکت سے متعلق الزامات کا سامنا کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوں۔

زوخار سارنیف اور اُن کے 26برس کے بڑے بھائی، تمرلان پر الزام ہے کہ دیسی ساختہ پریشر کُکر بم استعمال کرتے ہوئے اُنھوں نے تین افراد کو ہلاک اور 264کو زخمی کیا؛ جِس کے تین روز بعد، اُنھوں نے مبینہ طور پر میساچیوسٹس کے کیمبرج علاقے میں کولیئر کو گولی مار کر ہلاک کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ روپوش ہونے سےقبل، دونوں نےکولیئر کی بندوق چھیننے کی ناکام کو شش کی تھی۔

اِن دونوں بھائیوں نےرات گئے واٹر ٹاؤن کے قریب پولیس کے ساتھ گولیوں کا تبادلہ کیا، جِس میں تمرلان ہلاک اور زوخار روپوش ہوا، جس کے بعد، دِن بھر بوسٹن کا زیادہ تر شہر بند پڑا رہا اور تلاشی شروع ہوئی، اور پولیس نے اُنھیں ایک کشتی میں سے ڈھونڈ نکالا۔

زوخار نے 15اپریل کے بم حملے اور ساتھ ہی کولیئر کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے الزامات سے انکار کیا ہے۔ اگر اُن کے خلاف یہ الزامات درست ثابت ہوئے، تو اُنھیں پھانسی کی سزا ہو سکتی ہے۔

مڈل سیکس کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی، ماریان رائن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ زوخار جو ایک وفاقی ادارے کی تحویل میں ہے، مقدمے کی کارروائی کا انتظار کر رہا ہے، جنھیں وفاقی مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد ہی کہیں کاؤنٹی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG