رسائی کے لنکس

logo-print

یومِ آزادی پر خود کش حملوں کا منصوبہ بنایا تھا، جوہر سرنائیو


امریکہ کے یومِ آزادی کی مناسبت سے 4 جولائی کو بوسٹن شہر میں بڑے پیمانے پر عوامی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

بوسٹن بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار جوہر سرنائیو نے امریکی حکام کو بتایا ہے کہ اس نے اپنے بھائی کے ہمراہ 4 جولائی کو امریکہ کے یومِ آزادی کے موقع پر خود کش حملوں کا منصوبہ بنایا تھا۔

حکام کے مطابق زخمی حالت میں پولیس کی حراست میں موجود جوہر نے تفتیشی افسران کو بتایا ہے کہ حملوں میں استعمال کیے جانے والے گھریلو ساختہ بم ان کی توقعات سے جلدی تیار ہوگئے تھے جس کے باعث انہیں حملے طے شدہ منصوبے سے قبل ہی کرنا پڑے۔

خیال رہے کہ امریکہ کے یومِ آزادی کی مناسبت سے 4 جولائی کو بوسٹن شہر میں بڑے پیمانے پر عوامی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

جوہر کے مطابق انہوں نے بموں کی قبل از وقت تیاری کے باعث 15 اپریل کو بوسٹن میں ہونے والی سالانہ میراتھن دوڑ کے موقع پر دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ اس روز بھی شہر میں خاصی رونق اور چہل پہل ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ ان دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

حکام نے ابتدائی تحقیقات کے بعد دھماکوں کے الزام میں امریکہ میں مقیم چیچن نژاد جوہر سرنائیو کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا تھا جب کہ اس کا بڑا بھائی اور دھماکوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ تیمرلان پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا تھا۔

موقر امریکی روزنامے 'دی نیویارک ٹائمز' کے مطابق 19 سالہ جوہر نے تفتیشی افسران کو بتایا ہے کہ وہ اور ان کے 26 سالہ بھائی تیمرلان انٹرنیٹ پر امریکی نژاد مسلمان خطیب انور الاوعلقی کے ویڈیو خطبے سنا کر تے تھے۔

خیال رہے کہ القاعدہ کے رہنما انور الاوعلقی ستمبر 2011ء میں یمن میں کیے جانے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق تفتیشی حکام کو دونوں ملزم بھائیوں کے اوعلقی کے ساتھ براہِ راست روابط کےشواہد نہیں ملے ہیں۔

امریکی حکام نے دھماکوں کے شواہد ضائع کرنے میں جوہر کی مدد کرنے کے الزام میں رواں ہفتے قازقستان سے تعلق رکھنے والے دو اور ایک امریکی نوجوان کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔

حکام کے مطابق تینوں نوجوان جوہر کے ساتھ یونی ورسٹی میں پڑھ رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان بم دھماکوں میں براہِ راست ملوث نہیں تھے تاہم انہوں دھماکوں کے بعد جوہر کی ذاتی اشیا چھپانے اور دھماکوں کے شواہد ضائع کرنے کی کوشش کی تھی۔
XS
SM
MD
LG