رسائی کے لنکس

logo-print

سارنیف مقدمہ، جیوری کے چناؤ میں تاخیر کی التجا رد


اُنھوں نے کہا کہ جیوری کے سامنے لائے گئے سوالنامے کا جائزہ لیا گیا ہے، جس سے اُن کے اس حکم کی تصدیق ہوتی ہے کہ ’ایک مناسب اور منصفانہ جیوری کا چناؤ ہو سکتا ہے اور ایسا ہی ہوگا‘

ایک وفاقی جج نے بوسٹن میراتھون بم دھماکہ کیس میں ملوث حملہ آور، زخور سارنیف کی طرف سے مقدمہ سننے والےجیوری کے چناؤ کے عمل کو، گذشتہ ہفتے پیرس کے دہشت گرد حملوں کے پیشِ نظر، منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

جج نے بدھ کے روز سارنیف کے وکلا کی طرف سے دائر کردہ تحریک ماننے سے انکار کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ جیوری کے سامنے لائے گئے سوالنامے کا جائزہ لیا گیا ہے، جس سے اُن کے اس حکم کی تصدیق ہوتی ہے کہ ’ایک مناسب اور منصفانہ جیوری کا چناؤ ہو سکتا ہے اور ایسا ہی ہوگا‘۔

سارنیف کے وکلاٴنے منگل کے روز تاخیر کی درخواست دیتے ہوئے عذر پیش کیا تھا کہ پیرس حملوں کے بعد بوسٹن میراتھون بم دھماکوں کی یاد تازہ ہوگی، اور ایسے میں غیرجانبدار جیوری کا انتخاب مشکل معاملہ ہوگا۔

اکیس برس کے سارنیف کا مقدمہ سننے کے لیے پچھلے ہفتے 12 رکنی جیوری اور چھ متبادل ارکان کے چناؤ کا عمل شروع ہوا۔

اُن پر 30 جرائم پر مشتمل فرد جرم عائد ہے، جن میں 15 اپریل 2013ء کو میراتھون فنش لائن پر دو خودساختہ بم دھماکوں کے نتیجے میں تین افراد کی ہلاکت اور 260 کو زخمی کرنے کے الزامات ہیں۔

جرم ثابت ہونے پر، اُنھیں موت کی سزا ہوسکتی ہے۔ اُنھوں نے تمام الزامات ماننے سے انکار کیا ہے۔

چھبیس جنوری سے شہادتوں کا آغاز ہوگا، اور توقع ہے کہ یہ مقدمہ تین سے چار ماہ میں مکمل ہوگا۔

XS
SM
MD
LG