رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: امریکی باکس آفس کو دو دہائیوں میں ریکارڈ خسارہ


امریکہ میں جہاں کرونا وائرس نے زندگی کے ہر شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے وہیں رواں ہفتے باکس آفس کم آمدنی کے حوالے سے 20 برسوں میں کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

امریکہ میں زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تھیم پارکس بند ہو گئے ہیں۔ براڈ وے پر اندھیرا چھا گیا ہے۔ اسٹوڈیوز میں فلموں اور ٹی وی شوز کی شوٹنگز رکی ہوئی ہیں۔

لوگوں نے سنیما ہالز کا رخ کرنا بھی تقریباً ترک کر دیا ہے جس کے نتیجے میں فلموں کی آمدنی گھٹ گئی۔ باکس آفس پر آمدنی کم ہونے کا تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق گزشتہ جمعے تک صورتِ حال پھر بھی بہتر تھی لیکن ویک اینڈ آمدنی کے لحاظ سے باکس آفس شدید مندی کا شکار رہا۔

خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کرونا وائرس کے پیشِ نظر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

اس ہفتے شمالی امریکہ میں ٹکٹوں کی فروخت دو دہائیوں کے دوران سب سے کم سطح پر آگئی اور جمعے سے اتوار کی درمیانی مدت میں صرف پانچ کروڑ 53 لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوئی۔

اس سے قبل ستمبر 2000 میں باکس آفس نے پانچ کروڑ 45 لاکھ ڈالر کا بزنس کیا تھا۔

رواں ہفتے صرف ایک فلم 'آن ورڈ' نے ویک اینڈ پر ایک کروڑ ڈالر سے زائد کا کاروبار کیا۔

امریکہ میں فلموں کی نمائش کے بڑے تھیٹرز اے ایم سی، ریگل، الامو، ڈرافٹ ہاؤس اور آرکلائٹ نے ہالز میں بیٹھنے کی گنجائش 50 فی صد کم کر دی ہے۔ تاکہ لوگ رش سے بچ کر فاصلے میں بیٹھ سکیں۔ وبائی امراض کے محکمے کے ہدایات کے مطابق سنیما ہالز نے ٹکٹوں کی فروحت بھی کم کر دی ہے، تاکہ لوگوں کا سماجی میل جول کم سے کم کیا جا سکے۔

لہذٰا ان تمام محرکات سے سنیما ہالز اور تھیٹرز کے مجموعی منافع میں کمی واقع ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG