رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی لینڈ: غار میں پھنسے بچوں کا سراغ مل گیا، امدادی سرگرمیاں جاری


بچوں تک پہنچنے والے غوطہ خوروں نے ان کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں بچوں کو غار کے اندر سیلابی پانی سے گھری ایک چٹان پر بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بچے اور ان کے کوچ غار کے اندر دہانے سے چار کلومیٹر ایک اونچی چٹان پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

تھائی لینڈ کے ایک گہرے غار میں لاپتا ہوجانے والے 12 بچوں اور ان کے فٹ بال کوچ کا 10 روز بعد سراغ مل گیا ہے اور حکام انہیں غار سے نکالنے کے انتظامات میں مصروف ہیں۔

تھائی لینڈ کے صوبے چیانگ رائے کے گورنر نرونگسک اوستناکورن نے منگل کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ لاپتا بچوں کا سراغ پیر کی شام ملا جو سیلابی پانی اور گارے سے بھرے ایک غار کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی امدادی کارکن اور غوطہ خور گزشتہ 10 دن سے ان بچوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچے اور ان کے کوچ غار کے اندر دہانے سے چار کلومیٹر ایک اونچی چٹان پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

بچوں تک پہنچنے والے ایک امدادی کارکن کی جانب سے ٹارچ کی روشنی میں بنائی جانے والی ویڈیو میں لال اور نیلی جرسیاں اور نیکر پہنے بچوں کو سیلابی پانی سے گھری ایک چٹان پر بیٹھے اور کھڑے دیکھا جاسکتا ہے۔

بچوں کی تلاش اور انہیں نکالنے کے آپریشن میں تھائی لینڈ کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، چین اور فلپائن کے ماہر غوطہ خور بھی شریک ہیں۔
بچوں کی تلاش اور انہیں نکالنے کے آپریشن میں تھائی لینڈ کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، چین اور فلپائن کے ماہر غوطہ خور بھی شریک ہیں۔

ویڈیو میں بین الاقوامی امدادی ٹیم کا رضاکار انگریزی میں بلند آواز سے بچوں سے سوال کرتا ہے، "آپ کتنے لوگ وہاں ہیں؟ 13؟ بہت خوب۔"

بعد ازاں امدادی کارکن کو کہتے سنا جاسکتا ہے، "آپ لوگ یہاں 10 دن سے ہیں۔ آپ لوگ بہت بہادر ہیں۔" جواب میں ایک بچہ کہتا ہے، "آپ کا شکریہ۔"

ویڈیو میں ایک بچہ سوال کرتا ہے کہ انہیں غار سے کب نکالا جائے گا جس کے جواب میں امدادی کارکن کہتا ہے، "آج نہیں۔ آپ لوگوں کو غوطہ لگانا پڑے گا۔"

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ان بچوں تک سب سے پہلے وہ دو برطانوی غوطہ خور پہنچےجنہیں غاروں میں پھنسے افراد کے لیے امدادی سرگرمیاں انجام دینے کا خاصا تجربہ ہے۔

'برٹس کیو ریسکیو کونسل' کے سربراہ بِل وائٹ ہاؤس نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ دونوں غوطہ خوروں کے ہمراہ تھائی لینڈ کی فوج کے خصوصی دستے کے غوطہ خور بھی تھے۔

غوطہ خوروں کی ایک ٹیم غار کے ایک حصے میں بچوں کو تلاش کر رہی ہے۔
غوطہ خوروں کی ایک ٹیم غار کے ایک حصے میں بچوں کو تلاش کر رہی ہے۔

غار میں پھنسے تمام بچوں کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان ہیں جو تمام انڈر 16 فٹ بال ٹیم کے رکن ہیں۔

یہ بچے اپنے 25 سالہ کوچ کے ہمراہ 23 جون کو فٹ بال میچ کی پریکٹس کے بعد تھام لوانگ نامی غاروں کے سلسلے کی سیر کو گئے تھے لیکن علاقے میں ہونے والی طوفانی بارش اور سیلاب کے باعث لاپتا ہوگئے تھے۔

کئی کلومیٹر طویل غاروں کا یہ سلسلہ میانمار کے ساتھ واقع تھائی لینڈ کی شمالی سرحد پر ایک جنگل میں واقع ہے۔

ان بچوں کی تلاش کے لیے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں کو تھائی لینڈ کے مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ خصوصی کوریج دے رہے تھے اور پیر کو ان بچوں کے ملنے کی اطلاع پر ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

ان بچوں کے والدین اور دیگر رشتے دار گزشتہ کئی روز سے غار کے نزدیک ہی قائم کیے گئے ایک خصوصی کیمپ میں مقیم ہیں جہاں بچوں کے ملنے کی اطلاع ملنے کے بعد جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور جشن کا سا سماں رہا۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو بحفاظت باہر نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں لیکن اس کام میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں کیوں کہ غار سیلابی پانی، گارے اور دیگر رکاوٹوں سے اٹا ہوا ہے۔

تھائی فوجی اہلکار ایک واٹر پمپ لے جارہے ہیں جسے غار میں جمع پانی نکالنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
تھائی فوجی اہلکار ایک واٹر پمپ لے جارہے ہیں جسے غار میں جمع پانی نکالنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ابتدائی طور پر امدادی کارکنوں نے بچوں کو توانائی فراہم کرنے والی گولیاں پہنچائی ہیں تاکہ ان کی جسمانی طاقت بحال رہے۔

امدادی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جن منصوبوں پر غور کیا جارہا ہے ان میں غار میں پانی کا لیول کم ہونے کا انتظار کرنا یا پھر بچوں کو غوطہ خوری کی تربیت دینا شامل ہیں تاکہ وہ سیلابی پانے سے تیر کر نکل سکیں۔

صوبے کے گورنر نے جائے واقعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو غار سے نکالنے کی کارروائی خاصی پیچیدہ ثابت ہوگی جس کے باعث ان کی جلد واپسی کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔

گورنر نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک میڈیکل ٹیم نے پیر کی رات بچوں کا معائنہ کیا ہے اور منگل کو بھی ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کو چند خراشیں آئی ہیں اور کسی کو کوئی بڑی چوٹ نہیں لگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG