رسائی کے لنکس

logo-print

ریو اولمپکس ختم، تمغوں کی فہرست میں امریکہ پہلے نمبر پر


برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں 31 ویں اولمپکس گیمز اپنے اختتام کو پہنچ گئیں، اتوار کی شب ماکارانا اسٹیڈیم میں اختتامی تقریب ہوئی۔

جنوبی امریکہ کے کسی بھی ملک میں پہلی مرتبہ اولمپکس کا انعقاد ہوا، انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے سربراہ ٹامس باخ نے اختتامی تقریب سے خطاب میں کہا کہ برازیل نے سب کو لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا۔

برازیل میں کھیلوں کے ان مقابلوں کا آغاز پانچ اگست کو ہوا تھا۔

کھیلوں کے ان مقابلوں میں 206 ممالک کے11,303 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

ریو اولمپکس کے مطابق پہلی مرتبہ پناہ گزینوں کی 10 رکنی ٹیم نے بھی شرکت کی جس میں جنوبی سوڈان، ایتھوپیا، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور شام کے کھلاڑی شامل ہیں۔

ان پناہ گزینوں کو اُن ممالک کی اولمپکس کمیٹوں نے منتخب کیا جہاں وہ مقیم ہیں۔ پناہ گزینوں کی ٹیم میں چھ مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔

اولمپکس مقابلوں میں پہلی بار پاکستان کی ہاکی ٹیم کوالیفائی نا کر سکی۔ واضح رہے کہ پاکستانی ہاکی ٹیم اولمپکس چیمپئین رہی ہے۔

اس سال پاکستان کا صرف سات رکنی دستہ اولمپکس مقابلوں میں شریک تھا جن میں دو تیراک، دو نشانہ باز اور دو ایتھلیٹ جب کہ جوڈو کا ایک کھلاڑی شامل تھے، لیکن وہ کوئی بھی تمغہ حاصل نا کر سکے۔

ریو اولمپکس کے دوران حفاظت کے لیے 85 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات رہے۔

ریو اولمپکس میں تمغوں کی فہرست میں امریکہ پہلے، برطانیہ دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر رہے۔

امریکہ کے کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 121 تمغے جیتے جن میں سے 46 طلائی تمغے تھے۔

برطانیہ نے کل 67 تمغے حاصل کیے جن میں 27 سونے کے تمغے شامل تھے۔

چین کے مجموعی تمغوں کی تعداد 70 رہی لیکن اُسے 26 طلائی تمغے ملے، جس کی وجہ سے وہ میڈل ٹیبل پر تیسرے نمبر پر رہا۔

آئندہ اولمپکس 2020ء جاپان کے شہر ٹوکیو میں ہوں گے، ریو اولمپکس کی اختتامی تقریب میں اولمپک پرچم جاپان کے حوالے کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG