رسائی کے لنکس

logo-print

برازیل: 20 سال تک سرکاری اخراجات پر قدغن کی تجویز منظور


مظاہرین کا موقف ہے کہ ان کٹوتیوں سے تعلیم اور صحت کے شعبے متاثر ہوں جو کہ برازیل کے غیر طبقے کے لیے بہت تکلیف دہ امر ہے۔

برازیل کی سینیٹ نے صدر مائیکل ٹمر کی طرف سے پیش کی گئی تجویز کو منظور کرتے ہوئے ملک میں آئندہ 20 سالوں کے لیے عوامی منصوبوں پر اخراجات کو روک دیا ہے۔

صدر کی اس تجویز کا مقصد بجٹ خسارے کو قابو میں لانے اور ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر کرنا بتایا جاتا ہے۔

اس اقتصادی منصوبے کی منظوری صدر ٹمر کی حکومت کے لیے خوش آئند ہے جسے بدعنوانی کے الزامات اور اقتصادی بے چینی کی وجہ سے شہریوں کے اضطراب کا سامنا ہے۔

منگل کو سینیٹ میں بائیں بازو کے ارکان اس تجویز کو ممکنہ حد تک موخر کرنے کے خواہاں تھے لیکن رائے شماری کے نتیجے میں 16 کے مقابلے میں 53 ووٹوں سے اسے منظور کر لیا گیا۔

ٹمر کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم کر کے اخراجات کو محدود کیے جانے کا اقدام غیرمعمولی ہے اور اس کے بعد ملک کے فراخدلانہ پینشن سسٹم میں اصلاحات کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ "حکمرانی کے لیے آپ کو ہمت چاہیے ہوتی ہے اور ہم میں ہمت ہے۔"

سینیٹرز کو ابھی اس بل کی بعض شقوں پر رائے شماری کرنی ہے جن میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اخراجات کی پابندی سے مبرا رکھنا شامل ہے۔

حکومت کے اس اقدام کے خلاف پہلے ہی مظاہرے ہو رہے ہیں اور منگل کو بھی برازیل کی کانگریس کے باہر ایک بڑا مظاہرہ دیکھنے میں آیا جس میں مزدور یونینز اور بائیں بازو کے گروپس شامل تھے۔

مظاہرین کا موقف ہے کہ ان کٹوتیوں سے تعلیم اور صحت کے شعبے متاثر ہوں جو کہ برازیل کے غیر طبقے کے لیے بہت تکلیف دہ امر ہے۔

XS
SM
MD
LG