رسائی کے لنکس

logo-print

افغان امن بات چیت میں اہم پیش رفت، مذاکرات کا طریقۂ کار طے پا گیا


امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو دوحہ میں طالبان کے مذاکرتی وفد سے بات چیت کر رہے ہیں۔ 21 نومبر 2020

طویل انتظار کے بعد طالبان اور افغان حکومتی نمائندوں کے درمیان بین الافغان امن مذاکرات کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ جس کے مطابق وہ آئندہ لائحہ عمل پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مصالحت زلمے خلیل زاد نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ افغان فریق ایک اہم سنگِ میل پر پہنچ چکے ہیں۔

خلیل زاد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے مزید بتایا کہ یہ ایک سیاسی روڈ میپ اور جامع جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے قواعد و ضوابط کو تین صفحوں پر مشتمل معاہدہ ہے۔ اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات کرنے والی ٹیمیں سخت معاملات پر اتفاق رائے کر سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں کئے جانے والے امن معاہدے کے بعد تمام تر نظریں بین الافغان امن مذاکرات پر مرکوز ہو گئیں تھیں۔

12 ستمبر کو طالبان اور افغان حکومتی نمائندوں کی ٹیکنیکل ٹیموں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد اب بین الافغان امن مذاکرات کا آغاز ممکن ہو پائے گا۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب افغانستان میں تشدد کی لہر میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور دونوں فریقین اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں۔

گزشتہ ماہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے دورہ کابل میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو امن کے حصول کے لئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی تھی۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے پر دستخط کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے پر دستخط کیے جا رہے ہیں۔

افغان صدر نے عمران خان کے دورہ افغانستان کو تاریخی قرار دیا تھا۔

دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ بدھ کے روز دونوں فریقین کے درمیان اجلاس ہوا اور اس کے اختتام پر مشترکہ ورکنگ کمیٹی کو آئندہ آنے والے ایجنڈے کے عنوانات تیار کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ امن مذاکرات کرنے والی ٹیموں کی موجودہ بات چیت سے پتا چلتا ہے کہ پائیدار امن کے حصول کے لئے افغانوں میں رضامندی ہے اور دونوں فریقین افغانستان میں پائیدار امن چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ اپنی مخلصانہ کوششوں کو جاری رکھیں گے۔

پاکستان کا خیرمقدم

پاکستان نے بھی طالبان اور افغان حکومتی وفد کے مابین قواعد و ضوابط سے متعلق اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ اہم پیش رفت ہے جس کے ذریعے کامیاب بین الافغان امن مذاکرات ممکن ہو پائیں گے۔ اور اس کا سب کو شدت سے انتظار تھا۔ دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بین الافغان امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا جس کا نتیجہ ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کی راہ ہموار کرنے کے لئے ایک جامع، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل پر ہو گا۔

ماہرین کے مطابق حالیہ اعلان کے بعد وہ ممکنہ طور پر افغانستان میں تشدد کی لہر میں کمی کی توقع کرتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مقیم پژواک نیوز ایجنسی کے سینئر ایڈیٹر، جاوید حمیم کاکڑ، نے بتایا کہ طالبان اور افغان حکومتی وفود کے درمیان دو ماہ سے زائد جاری مذاکرات کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے تھے جس کی وجہ سے افغانستان میں ہر جانب شورش کی لہر برپا تھی۔ اور مقامی افراد کی تمام تر امیدیں دم توڑ رہیں تھیں۔

جنگ بندی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، تجزیہ کار

ان کے مطابق آج قطر سے بہت اچھی خبریں سننے کو ملیں۔ جس کے مطابق دونوں فریق آئندہ ہونے والے مذاکرات کے طرزالعمل پر راضی ہو گئے ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ بہت جلد بین الافغان امن مذاکرات کے حوالے سے ایجنڈے پر بھی راضی ہو جائیں گے جس کے بعد حصول امن کی راہ میں تمام رکاوٹیں ختم ہو جائیں گیں۔

یاد رہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان تقریباً تین ماہ سے دوحہ میں آئندہ ہونے والے بین الافغان امن مذاکرات کے حوالے سے بات چیت جاری تھی۔ تاہم دونوں فریقوں کے مابین واضح اختلافات موجود تھے، جس کی وجہ سے اکثر ڈیڈ لاک پیدا ہو جاتا تھا۔

بدھ کے روز ایسے تمام اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور اب ایجنڈہ کی تیاری کی جائے گی جس کے بعد براہ راست مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔

'افغان امن مذاکرات پر سب خوش ہیں'
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:35 0:00

پژواک نیوز کے سینئر ایڈیٹر کے مطابق کابل میں دوپہر سے ہی ایسی خبریں سوشل میڈیا پر پھیلنی شروع ہو گئیں تھیں۔ اور لوگوں نے خوشی کا اظہار کابل کی سڑکوں، سوشل میڈیا اور مختلف ٹیلی وژن کے پروگراموں کے ذریعے کیا۔ اور لوگ بہت زیادہ خوش ہیں۔

یاد رہے کہ فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے اور بعد میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان چھ ہزار سے زائد قیدیوں کے تبادلے کے باوجود تشدد کی لہر میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ تاہم جاوید حمیم کاکڑ سمجھتے ہیں کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ اب شورش میں واضح کمی دیکھنے میں آئے گی اور وہ سمجھتے ہیں ایجنڈہ میں سر فہرست جنگ بندی کے موضوع پر بات چیت کی جائے گی جس کی وجہ سے افغانستان میں امن کا قیام ممکن ہو پائے گا۔

افغان امور کی ماہر امینہ خان اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسڈیز میں بطور ڈائریکٹر فرایض سر انجام دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک اچھا اقدام ہے اور یہ بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔ ان کے مطابق دونوں فریق 19 سال بعد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھ رہے ہیں اس لحاظ سے یہ بہت نازک ڈائیلاگ ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ نئی امریکی انتظامیہ بھی افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی تاکہ 40 سال سے جاری خونریزی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

دوحہ میں طالبان کا دفتر
دوحہ میں طالبان کا دفتر

پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امینہ خان نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کا شروع دن سے خواہاں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے پہلے امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کو ممکن بنایا جس کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ڈائیلاگ میں مثبت اور اہم کردار ادا کیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان امن کے حوالے سے کوششیں عالمی برادری کو خوش کرنے کے لئے نہیں کر رہا بلکہ 19 سالہ شدت پسندی نے پاکستان کو صحیح معنوں میں امن کی اہمیت سکھائی ہے اور پاکستانی معیشت کی کامیابی کے لئے افغانستان میں امن کا قیام بہت ضروری ہے۔

امینہ خان نے مزید بتایا کہ افغانستان میں دیرپا امن کے حصول کے لئے طالبان اور افغان حکومت، دونوں،کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اور وہ سمجھتی ہیں کہ راستے میں مزید رکاوٹیں آئیں گیں اور بین الافغان امن مذاکرات کئی مہنے جار رہ سکتے ہیں۔ تاہم دونوں فریقوں کو مذاکرات کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کو بھی دونوں فریقوں پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے کیونکہ یہ ایک بہت پیجیدہ اور حساس عمل ہے اور جلد بازی میں ہونے والا معاہدہ زیادہ دیرپا نہیں رہ سکے گا اور یوں امن کی خاطر تمام کوششیں ضائع ہو جائیں گیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG