رسائی کے لنکس

'برکس' ممالک کا ریزرو فنڈ، بینک کے قیام کا اعلان


بینک کا قیام 'برِکس' اتحاد کی پہلی بڑی کامیابی ہے
بینک کا قیام 'برِکس' اتحاد کی پہلی بڑی کامیابی ہے

فیصلوں کا اعلان اتحاد کے رکن ملکوں – برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ - کے سربراہان نے منگل کو برازیل میں ہونے والے اجلاس کے دوران کیا۔

دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے نمائندہ گروپ 'برکس' نے 100 ارب ڈالر کے ابتدائی سرمایے سے اپنے الگ بینک کے قیام کا اعلان کیا ہے جو ان ملکوں میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔

اس فیصلے کا اعلان پانچوں ملکوں – برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ - کے سربراہان نے منگل کو برازیل میں ہونے والے اجلاس کے دوران کیا۔

فیصلے کے مطابق مجوزہ بینک کا صدر دفتر چین کے شہر شنگھائی میں ہوگا جب کہ ابتدائی پانچ برسوں کے دوران اس کی صدارت بھارت سنبھالے گا۔

بھارت کے بعد پہلے برازیل اور پھر روس بینک کی سربراہی کریں گے۔

پانچوں ملکوں کے سربراہان نے 100 ارب ڈالر سے ایک ریزرو فنڈ قائم کرنے کی بھی منظوری دیدی ہے جو 'برکس' کے رکن ملکوں کو مالی بحران سے بچانے کے لیے کام آئے گا۔

بینک کا قیام 'برِکس' اتحاد کی پہلی بڑی کامیابی ہے جسے پانچوں ابھرتی ہوئی معیشتوں نے بین الاقوامی مالی معاملات میں اپنا کردار اور اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے 2009ء میں تشکیل دیا تھا۔

دنیا کی لگ بھگ نصف آبادی 'برکس' کے رکن ممالک میں رہتی ہے جب کہ دنیا کی کل معاشی پیداوار میں اتحاد کے ملکوں کا حصہ 20 فی صد ہے۔

سربراہی اجلاس کے فیصلے کے مطابق بینک کا آغاز ابتدائی طور پر 50 ارب ڈالر کی رقم سے کیا جائے گا جس کے لیے پانچوں رکن ملک آئندہ سات برسوں کے دوران 10، 10 ارب ڈالر فراہم کریں گے۔

فیصلے کے مطابق 10 ارب ڈالر نقد جب کہ 40 ارب ڈالر ضمانتوں کی صورت میں دیے جائیں گے۔ دیگر ممالک بھی مجوزہ بینک کے رکن بن سکیں گے لیکن بینک کے اثاثوں میں 'برِکس' ممالک کا حصہ کم از کم 55 فی صد رہے گا تاکہ انتظامی معاملات پر ان کی گرفت قائم رہ سکے۔

بینک 2016ء میں قرضے دینے کا آغاز کرے گا۔

سربراہی اجلاس کے فیصلے کے تحت قائم کیے جانے والے 100 ارب ڈالر کے ریزرو فنڈ کے لیے چین 41 ارب ڈالر فراہم کرے گا جو دنیا میں زرِ مبادلہ کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والا ملک ہے۔

فنڈ کے لیے بھارت، روس اور برازیل 18، 18 ارب ڈالر دیں گے جب کہ جنوبی افریقہ پانچ ارب ڈالر فراہم کرے گا۔

پانچوں ملک اپنی رقوم اپنے پاس ہی محفوظ رکھیں گے جنہیں ضرورت پڑنے اور بیرونی ادائیگیوں میں مشکل پیش آنے کی صورت میں ضرورت مند ملک کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیا جائے گا۔

'برِکس' ممالک کے علیحدہ بینک کے قیام کے لیے مذاکرات گزشتہ دو برس سے زائد عرصے سے جاری تھے اور بینک کے قیام پر اتفاق کو پانچوں ملکوں کی ایک بڑی کامیابی اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد مغربی طاقتوں کی جانب سے تشکیل دیے جانے والے عالمی معاشی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG