رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولتوں کا فقدان


ورلڈ بینک نے پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں میں وسائل کا زیاں اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج میں ہونے والے خرچے سے معیشت کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 4.9 بلین ڈالرز لگایا ہے۔

پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ بنیادی سہولتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے محروم ہے۔۔ اور اس خلا کو پُر کرنے کی کوششوں کو ناکافی ہی کہا جا سکتا ہے۔
اقوام ِمتحدہ کے خبررساں ادارے ’انٹی گریٹیڈ ریجنل انفارمیشن نیٹ ورکس‘ کے مطابق ورلڈ بینک نے پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں میں وسائل کا زیاں اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج میں ہونے والے خرچے سے معیشت کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 4.9 بلین امریکی ڈالرز سالانہ لگایا ہے جو جی ڈی پی کا 3.4٪ بنتا ہے۔
دس ملین آبادی والے شہر لاہور کی بات کی جائے تو یہاں صنعتی فضلے اور گٹرز کی گندگی کو باہر لے جانے کے لئے 11واٹر کورسز ہیں جو اس فُضلے کو بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے براہ ِراست دریائے راوی میں پھینک دیتی ہیں جو مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ عوام جتنی احتیاط اپنے طور پر کر سکتے ہیں وہ کرتے ہیں لیکن یہ مسئلے کا کوئی حل نہیں۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی مطالعاتی رپورٹ کے مطابق پاکستانی اسپتالوں میں 40٪ مریض آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ہر سال 2لاکھ 25 ہزار سے زائد بچے ٹائیفائڈ، پیچش، کالی کھانسی اور ہیپا ٹائٹس کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
پاکستان میں پانی کی سپلائی کو حفظان ِصحت کے مطابق بنانے کے کام کی نگرانی کرنے والے سرکاری ادارے پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آرڈبلیوآر)کی ڈائریکٹر لبنیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ بغیر ٹریٹمنٹ کا کچرا اور فضلہ زیر ِزمین پانی کو آلودہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ زیر ِزمین سیویج پائپ لیک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے گندگی زیر ِزمین پانی میں مل جاتی ہے۔
ملک کے اکثر بڑے شہروں میں پانی کی قلت رہتی ہے جسے پورا کرنے کے لئے شہری اپنے طور پر بندوبست کرنے کی کوششیں کرتے ہیں جیسے گہرے کنویں کھودنا۔ اس سے پانی کی سطح کم ہوجاتی ہے اور آلودگی اور گندگی صاف پانی میں مل جاتی ہیں۔
پی سی آرڈبلیو آر نے2007ء میں پاکستان کے 23 بڑے شہروں میں پانی کی فراہمی کی صورتحال پر ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں لاہور میں پانی کے 16نمونوں کا تجزیہ کیا گیا تھا جو نل، ٹیوب ویل اور پانی کے دیگر ذرائع سے حاصل کئے گئے تھے۔ ہر نمونے میں آرسینک لیول غیرمحفوظ حد پرجبکہ آدھے سے زیادہ پانی کے نمونوں میں فلورائیڈکی زیادہ مقدار پائی گئی۔ لبنیٰ بخاری کے مطابق ٓٓآلودگی سے کالی کھانسی، پیچش اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض پھیلتے ہیں۔
پانی میں آلودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لئے بنائے گئے قوانین پر عمل نہیں ہو رہا۔ قانون کی رو سے فیکٹریاں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگانے سے پہلے ٹریٹ کریں لیکن ایسا نہیں ہوتا۔
پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے 1997ء میں ایک قانون بنایا جو ہر صوبے میں آزادانہ طور پر نافذ العمل ہے۔ اس قانون کے تحت ہر آبادی کی منظوری ای پی ڈی سے لینا ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ماحول پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔ عملی طور پر نہ تو یہ قانون نافذ ہوا اور نہ ہی اس کے تحت کسی کو سزا سنائی گئی۔
پنجاب میں صنعتی آلودگی کے خلاف ماحولیات کی خصوصی عدالتوں میں ہزاروں کیسز ایک دھائی سے بھی زیادہ عرصے سے زیر التوا ہیں اور ان کی کوئی سنوائی نہیں ہو رہی۔ گذشتہ برس سپریم کورٹ نے ’گرین بینچ‘ تشکیل دیئے تاکہ ماحولیا ت سے متعلق کیسوں کی سماعت کی جا سکے تاہم اس کے ذریعے صرف 15٪ کیسز کی ہی سماعت ہو سکی۔ صرف20٪ لوگوں پر ماحولیاتی آلودگی پھیلانے کے الزام میں جرمانے عائد کئے گئے۔
XS
SM
MD
LG