رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ کی طرف سے منعقدہ مباحثوں کا مقابلہ گدون اسلم نے جیت لیا


فورمین کرسچین کالج لاہور کے طالب علم گدون اسلم کو ججز کی جانب سے' دی گریٹ ڈبیٹ کمپیٹیشن' ایوارڈ کا فاتح قرار دیا گیا۔

برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے پاکستان میں منعقدہ 'دی گریٹ ڈبیٹ کمپیٹیشن' مباحثوں کا ایک بڑا مقابلہ 'فورمین کرسچین کالج لاہور' کے طالب علم گدون اسلم نے جیت لیا ہے۔

یونیورسٹی کے طلباء کے درمیان کرائے جانے والا تقریری مقابلہ 'دی گریٹ ڈبیٹ کمپیٹیشن' کے ابتدائی مقابلوں کے فاتحین میں سے چار فائنلسٹ کے درمیان فیصلہ کن مقابلہ اتوار 13 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔

مباحثوں کے بڑے مقابلے کا آغاز اس سال 22 ستمبر میں برطانوی ہائی کمیشن اور برٹش کونسل کی شراکت سے کیا گیا تھا۔

یو گو ڈاٹ یو کے کے مطابق فورمین کرسچین کالج لاہور کے طالب علم گدون اسلم کو ججز کی جانب سے عوامی جوش خطابت اور تحقیق کی مہارت کے لیے ’دی گریٹ ڈبیٹ کمپیٹیشن‘ ایواڈ کا فاتح قرار دیا گیا۔

اس مقابلے میں کامسیٹس کالج ایبٹ آباد کی طالبہ عزا آفریدی دوسرے نمبر پر آئی ہیں۔

جیتنے والے طالب علم گدون اسلم کو برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے دو ہزار پاونڈ کا تعلیمی وظیفہ انعام میں دیا گیا جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والی طالبہ عزا آفریدی نے ایک ہزار پاونڈ کا تعلیمی وظیفہ انعام میں حاصل کیا ہے۔

اس کے علاوہ فائنل مقابلوں میں حصہ لینے والے طلباء کو برطانوی ہائی کمیشن کی طرف سے حال ہی میں قائم کی جانے والی یوتھ ایڈوائزری بورڈ میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے جسے نوجوانوں اور ان کے مسائل پر مباحثوں کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

یہ تقریری مقابلے اندرون سندھ سمیت وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں فاٹا جیسے پاکستان کے دور دراز علاقوں کی سو کے قریب یونیورسٹیوں میں منعقدہ کرائے گئے۔ جس میں پاکستان کے بارہ شہروں سے تقریری مقابلہ جیتنے والے بارہ طالب علم اسلام آباد میں منعقدہ گرینڈ فائنل مقابلے میں پہنچے تھے۔

فائنل مقابلے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر جناب فلپ بارٹن نے کہا کہ دلائل دینا اور نرمی سے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے دوسروں کو اپنے موقف پر قائل کرنا مستقبل میں واقعی ایک اہم صلاحیت ہو گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ پاکستان کے نوجوان اس گفتگو کو فروغ دیں گے کہ وہ 2047ء میں پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں جب مملکت پاکستان کے سو سال مکمل ہو رہے ہوں گے اور اس وقت آج کے نوجوان پاکستان کی قیادت کر رہے ہوں گے اور انھیں پاکستان کو اپنی مرضی سے چلانے کا موقع ملے گا۔

XS
SM
MD
LG