رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: انتخابی مہم کا آخری دن


برطانیہ میں جمعرات کو ووٹنگ سے ایک دن پہلے آج انتخابی مہم کا آخری دن ہے۔ یہ کئی عشروں میں ملک کا سب سے کانٹے کا انتخابی مقابلہ سمجھا جارہاہے۔

برطانیہ کی اہم سیاسی جماعتوں کے اعلیٰ لیڈر ، اپنے ملک میں انتخابات سے قبل ، آخری دن کی اپنی انتخابی مہم کا بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔

بدھ کی رات لیبر پارٹی کے لیڈر گورڈن براؤن نے فولاد کی صنعت سے وابستہ کارکنوں کی رات کی ایک شفٹ کا دورہ کیا۔ انہوں نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ الیکشن مستقبل کے بارے میں ہے۔ یہ ہماری صنعت کے مستقبل کے بارے میں ہے، ہمارے روزگار کے مستقبل کےبارے میں ہے اور ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں ہے۔

مسٹر براؤن کو ایک سخت مقابلے کا سامنا ہے ۔ ڈیوڈ کیمرون کی قیادت کی قدامت پسند جماعت رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں میں مقبولیت میں سب سے آگے ہے۔ اور اعتدال پسند ڈیموکریٹس ۔۔۔ جو روائتی طورپر ایک درمیانے درجے کی جماعت ہے،ان جائزوں میں نمایاں طورپر آگے ہے۔

روڈنی بارکر ، لندن سکول آف اکنامکس میں ایک سیاسی دانش ور اور پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تینوں امیدوار خود کو ہر ممکن حدتک مصروف رکھے ہوئے ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون ، جو قدامت پسند راہنما ہیں، اتنے مصروف ہیں کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے لیے رات بھر کام ہے اور انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی نیند نہیں لی ۔

مسٹر بارکر کہتے ہیں کہ انتخابی مہم کا یہ آخری دن اس لیے اہم ہے کیونکہ بہت سے برطانوی باشندوں نےابھی تک انتخابات کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

منگل کے روز ایک ریسرچ گروپ ’کام ریس‘ (ComRes) کی جانب سے شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق ان 25 لاکھ افراد نے ، جن کا یہ کہناہے کہ وہ یقینی طورپر ووٹ ڈالیں گے،کہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کس کے حق میں ووٹ دیں گے اور ووٹروں کی ایک تہائی سے زیادہ تعداد کا یہ کہناتھا کہ بہت ممکن ہے کہ جمعرات کی صبح جب ووٹنگ شروع ہوتو اس بارے میں ان کی رائے بدل جائے کہ وہ کس کوووٹ دیں گے۔

روڈنی بارکر کہتے ہیں کہ اس انتخاب کے بارے میں جو واحد بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ واحد یقینی چیز یہ ہے کہ ہم نتیجے کے بارے میں ، انتخابات سے ایک دن پہلے بھی کوئی پیش گوئی نہیں کرسکتے۔ اور جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے کہ ایسا کسی بھی انتخاب میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔

کام ریس کے رائے کے جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ قدامت پسند 37 فی صد ، لیبر پارٹی 29فی صد اور لبرل ڈیموکریٹ 26 فی صد ووٹ جیت رہے ہیں۔

اگر ووٹ اسی تناسب سے تقسیم ہوئے تو کوئی واحد پارٹی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی اور ایسی صورت میں برطانیہ کی مستقبل کی حکومت اتحاد پر انحصار کرے گی۔

امکان یہ ہے کہ لبرل ڈیموکریٹس کوئی توازن قائم کریں گے۔ لیکن اب تک ان کے لیڈر نک کلیگ اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کرچکے ہیں کہ آیا ان کی جماعت قدامت پسندوں کا ساتھ دے گی یا لیبر پارٹی کا۔

بارکر کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ میں مستقبل کی کسی حکومت کی تشکیل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں انتخابات کے نتائج معلوم ہوجائیں تو بھی ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ حکومت کےحوالے سے نتائج کیا ہوں گے۔۔کون کس کے ساتھ کامیابی سے اتحاد کرے گا اور کس قسم کی حکومت بنانے کے لیے۔

اگر پارلیمنٹ میں کوئی واحد پارٹی اکثریت حاصل نہ کرسکی تو موجودہ وزیر اعظم گورڈن براؤن کسی نئی حکومت کی تشکیل تک اپنے منصب پر برقرار رہنے کا حق رکھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG