رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی انتخابات میں کسی پارٹی کو واضح کامیابی حاصل نہیں ہوئى


قدامت پرست لیڈر ڈیوڈ کیمرون نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اُن کی پارٹی اور لِبرل ڈیموکریٹس کے درمیان پالیسی کے معاملات پر اختلافات ہیں

برطانیہ میں اُن پارلیمانی انتخابات کے بعد اگلی حکومت بنانے کے لیے مذکرات شروع ہوگئے ہیں جن میں حزبِ اختلاف کے قدامت پرستوں نے اگرچہ زیادہ نشتیں حاصل کی ہیں لیکن پھر بھی وہ اِتننی اکثریت میں نہیں ہیں کہ فوری طور پر کوئى حکومت تشکیل دے سکیں۔

اس وقت تقریباً تمام ووٹ گِنے جا چکے ہیں، قدامت پرست 650نشستوں کی پارلیمنٹ میں 306نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں، اور وزیرِ اعظم گورڈن براؤن کی لیبر پارٹی نے 258نشستیں حاصل کی ہیں۔ لیکن دونوں پارٹیاں326نشستوں کی واضح اکثریت کے مقام سے بدستور بہت دُور ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ لِبرل ڈیمو کریٹک پارٹی، جس نے 57 نشستیں حاصل کی ہیں، ایک ایسی پارٹی بن گئى ہے جس کے ساتھ اتحاد ، کسی مخلوط حکومت کے قیام کے لیے ایک لازمی شرط بن گیا ہے۔

لِبرل ڈیمو کریٹس کے لیڈر نِک کلَیگ نے کہا ہے کہ چونکہ قدامت پرستوں نے پارلیمنٹ کی زیادہ حاصل کی ہیں ، اس لیے اُنہیں پہلے حکومت بنانے کا موقع دیا جانا چاہئیے۔

قدامت پرست لیڈر ڈیوڈ کیمرون نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اُن کی پارٹی اور لِبرل ڈیموکریٹس کے درمیان پالیسی کے معاملات پر اختلافات ہیں۔ لیکن انہوں نے اُن شعبوں میں مل کر کام کرنے کی پیش کش کی ہے جہاں اُن میں اتفاقِ رائے ہے۔

وزیرِ اعظم براؤن نے کہا ہے کہ اگر اُن دونوں پارٹیوں کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو وہ کلَیگ اور لِبرل ڈیمو کریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔انہوں نے انتخابی اصلاحات کے لیے کوئى بِل پیش کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے ، جو کہ لِبرل ڈیموکریٹس کا ایک بڑا مطالبہ ہے۔

یہ 1974 کے بعد سے پہلا موقع ہے جب برطانیہ میں عام انتخابات کے بعد ایک ایسی ”معلق پارلیمنٹ “ وجود میں آئى ہے جس میں کسی بھی پارٹی کو فیصلہ کُن اکثریت حاصل نہیں ہوئى۔

قدامت پرست لیڈر ڈیوڈ کیمرون نے جمعے کے روز کہا ہے کہ لیبر پارٹی کی حکومت، اپنے حکومت کرنے کے عوامی اختیار سے محروم ہوگئى ہے اور برطانیہ قیادت میں تبدیلی کے لیے تیار ہے۔

XS
SM
MD
LG