رسائی کے لنکس

logo-print

حکومت تارکین وطن کی تعداد محدود کر دے گی: ملکہٴانگلستان


ترک وطن کرکے برطانیہ آنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اوراسے محدود کرنا ضروری ہے: حکومت

برطانیہ کی نئی مخلوط حکومت نے یورپی یونین کے باہر کے ملکوں سے برطانیہ آنے والے تارکین وطن کی تعداد کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لیئے یہ پابندی ضروری ہے جب کہ بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ اس اقدام سے برطانیہ میں کاروبار پر ،اور دنیا کے بعض غریب ملکوں کی معیشتوں پر برا اثر پڑے گا۔ لندن سے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار، سیلا ہنسّی نےیہ رپورٹ بھیجی ہے۔

اس نئی امیگریشن پالیسی کا اعلان ملکۂ برطانیہ نے پارلیمینٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا:

میری حکومت برطانیہ میں اقتصادی وجوہ کی بنا پر داخل ہونے والے ایسے تارکین وطن کی تعداد محدود کر دے گی جن کا تعلق یورپی یونین کے باہر کے ملکوں سے ہے ۔

نئی حکومت نے اب تک یہ نہیں بتایا ہے کہ ایسے تارکین وطن کی زیادہ سے زیادہ تعداد کیا ہو گی۔ لیکن اب جب کہ برطانیہ میں رہنے والے ایسے لوگوں کی تعداد جو یہاں پیدا نہیں ہوئے تھے ، تقریباً ستّر لاکھ ہو گئی ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ ترک وطن کرکے برطانیہ آنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اوراسے محدود کرنا ضروری ہے۔

پارلیمینٹ کی ایک کنزرویٹو رکن، پریتی پٹیل کہتی ہیں کہ برطانیہ کی آخری حکومت نے تارکین وطن کی تعداد محدود کرنے کے لیئے کافی اقدامات نہیں کیے۔ وہ کہتی ہیں:

سچی بات یہ ہے کہ یہ اقدام بہت پہلے کیا جانا چاہیئے تھا۔ گذشتہ تیرہ برسوں سے نقل مکانی پر کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ تنے لوگ برطانیہ آئے جن کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کتنے لوگ ملک میں آ رہے ہیں اور کتنے واپس جا رہے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم امیگریشن کے بارے میں سوچ سمجھ کر کوئی عملی پالیسی اختیار کریں۔

لیکن پبلک پالیسی ریسرچ کی لارا چَپپل کہتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ حد مقرر کرنا مناسب نہیں ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ برطانیہ میں تارکین وطن کی تعداد کو محدود کرنے سے برطانیہ میں کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:

مثلاً اگر 90,000 کی حد مقرر کی جاتی ہے، اور ستمبر تک یہ حد پوری ہو جاتی ہے، تو اگر فُٹ بال کے کلب کسی نامور کھلاڑی کو بلانا چاہتے ہیں، تو کیا حکومت ان سے کہے گی کہ نہیں، اب آپ کسی کو نہیں بلا سکتے۔ ہمارے 90,000 تارکینِ وطن پہلے ہی آ چکے ہیں۔

چَیپل کہتی ہیں کہ تارکین وطن سے برطانیہ کو فائدہ ہوتا ہے۔ وہ زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، اور عام برطانوی شہری کے مقابلے میں کہیں کم سہولتیں استعمال کرتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تارکین وطن اپنے ملکوں کی مدد کرتے ہیں۔ جب وہ واپس جاتے ہیں تو نئی مہارتیں اور وسائل لے کر جاتےہیں اور جب ملک سے باہر ہوتے ہیں تو اپنے گھروں کو پیسے بھیجتے ہیں جس سے مقامی معیشتیں ترقی کرتی ہیں۔ چَیپل کہتی ہیں:

اگر آ پ کے گھرانے کا کوئی فرد باہر چلا گیا ہے، تو آپ زیادہ خوشحال ہو جائیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ امکان بڑھ جائے گا کہ آپ کوئی کاروبار شروع کریں گے، دوسرے مقامی لوگوں کو ملازم رکھیں گے اور اس طرح پوری کمیونٹی کو فائدہ ہو گا۔

ان کی تنظیم، انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی ریسرچ نے گذشتہ چار سال میں تحقیق کے دوران سات ملکوں میں دس ہزار گھرانوں کا سروے کیا ہے اور پتہ چلایا ہے کہ انھوں نے اپنا پیسہ کس طرح خرچ کیا۔ انہیں پتہ چلا کہ جن گھرانوں کو کوئی فرد باہر چلا گیا ہے، ا ن کا معیارِ زندگی بہتر ہے ۔ جمیکا میں ہر فرد جو باہر سے واپس آتا ہے، اس کے گھرانے میں صحت کی دیکھ بھال پر خرچ میں پچاس فیصد سے زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے ۔ گھانا میں، ایسے گھرانے جن کا کوئی فرد ملک سے باہر ہوتا ہے، ہر سال تعلیم پر 100 ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔

جوائس نیوٹن آٹھ برس پہلے گھانا سے لندن آئی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ برطانیہ میں وہ جو رقم چند گھنٹوں میں کما لیتی ہیں، اس سے گھانا میں ان کے گھرانے کو بڑی مدد ملتی ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:

صرف 20 پاؤنڈ رقم کے ہی گھانا میں 500,000 cedi بن جاتے ہیں۔ وہاں کے لیئے یہ بہت بڑی رقم ہے اور اس سے بہت سے اچھے کام کیے جا سکتے ہیں۔

وہ جو پیسے اپنے گھر بھیجتی ہیں، اس سے ان کے بھائی بہنوں کے تعلیم کے اخراجات پورے ہوتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں:

آپ کچھ بچت کرتے ہیں، کچھ پیسے گھر بھیجتے ہیں، تا کہ دوسرے بچوں کو تعلیم مل جائے اور ان کا معیار زندگی بہتر ہو جائے۔ یہاں تو ہر چیز مفت ہے لیکن وہاں ہر چیز کے لیئے پیسہ دینا پڑتا ہے ۔

برطانیہ کی نئی مخلوط حکومت نے کہا ہے کہ دنیا کےغریب ترین ملکوں کی مدد کے لیئے برطانیہ نے جو وعدے کیئے ہیں، وہ انہیں پورا کرے گی۔

XS
SM
MD
LG