رسائی کے لنکس

logo-print

کرزئی، کیمرون کی افغان صورتِ حال پر بات چیت


دونوں رہنماؤں نے دورہٴ واشنگٹن اور اِس ماہ کے اواخر میں افغانستان میں ہونے والے امن ‘جرگے’سے وابستہ توقعات پر بات کی

ہفتے کے روز افغان صدر حامد کرزئی نے برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ملاقات کی جِس میں افغانستان کی صورتِ حال اور باہمی تعلقات کو تقویت دینے پر بات ہوئی۔

یہ ملاقات برطانوی وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ، چیکرز میں ہوئی ۔ ایک روز قبل، مسٹر کرزئی امریکہ کا دورہ مکمل کر چکے ہیں جِس میں اُنھوں نے صدر براک اوباما ، وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں سےملاقات کی۔

برطانوی عہدے داروں نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے مسٹر کرزئی کے دورہٴ واشنگٹن اور اِس ماہ کے اواخر میں افغانستان میں ہونے والے امن ‘جرگے’سے وابستہ توقعات پر بات کی۔

افغانستان میں برطانیہ کے کردار کا معاملہ مسٹر کیمرون کی خارجہ پالیسی میں سرِ فہرست ہے۔ افغانستان میں برطانیہ کے 9500فوجی تعینات ہیں، جو کہ امریکہ کے بعد دوسرا بڑا دستہ ہے۔

اِس سے قبل، نئے برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ، جو اِن دِٕنوں امریکہ کے دورے پر ہیں، واشنگٹن میں بی بی سی کو بتایا کہ سال 2010ء افغانستان کے لیے فیصلہ کُن ثابت ہو سکتا ہے۔

جب اُن سے پوچھا گیا آیا جنگ زدہ ملک میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات اُنھیں حوصلہ دیتے ہیں، ہیگ نے بتایا کہ زیادہ تر دارومدار اِس بات پر ہوگا کہ آنے والے مہینوں میں کیا ہوتا ہے۔

گذشتہ برسوں کے دوران برطانیہ میں جنگ کے حوالے سےعوامی حمایت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ہیگ نے کہا کہ افغانستان میں برطانوی فوجیں اُس وقت تک تعینات رہیں گی جب تک ضروری ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب افغان اپنی سکیورٹی کے اہل ہوجائیں گے۔

XS
SM
MD
LG