رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردی کے خلاف پاک برطانیہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق


وفاقی وزیرِرانا تنویر حسین نے برطانوی وفد کو بتایا کہ پاکستان دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہے اور اس صنعت میں ترقی کی بدولت وہ برطانیہ کو جدید دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

پاکستان اور برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ دفاع فلپ ہیمنڈز نے اسلام آباد میں منگل کو پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس میں دفاعی شعبے میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ افغانستان کی مستقبل میں صورت حال پر گفت و شنید بھی کی گئی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ وزیرِ اعظم نے برطانوی وزیر پر واضح کیا کہ ’’پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے جو پُر امن و خوشحال پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔‘‘

اس سے قبل وزارتِ دفاع اور دفاعی پیداوار کے دورے میں فلپ ہیمنڈز نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی ’’مثبت حکمتِ عملی‘‘ علاقائی امن و استحکام کی کوششوں میں معاون ثابت ہو گی۔

فلپ ہیمنڈز کی سربراہی میں برطانیہ کے چار رکنی وفد نے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین اور سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک سے منگل کو راولپنڈی میں الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

پاکستان کی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانوی وفد نے پاکستانی عہدیداروں سے بات چیت میں نیٹو افواج کے 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے انخلاء کے بعد مقامی و علاقائی صورت حال سے معتلق ممکنات پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

رانا تنویر حسین نے برطانوی وفد کو بتایا کہ پاکستان دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہے اور اس صنعت میں ترقی کی بدولت وہ برطانیہ کو جدید دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

’’(ہمیں) دفاعی تعاون میں وسعت کے لیے مزید راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

برطانوی وزیرِ دفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی افواج اور اس کے عوام کی قربانیوں کا اعتراف بھی کیا۔
XS
SM
MD
LG