رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ کا روس سے فوجی تعاون معطل کرنے کا اعلان


برطانیہ نے یہ قدم یوکرائن کے بحران اور اس کے نیم خود مختار علاقے کرائمیا میں روسی مداخلت کے ردعمل میں اٹھایا ہے۔

برطانیہ نے یوکرین اور کرائمیا کے تنازع پر روس کے ساتھ دو طرفہ فوجی تعاون معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ نے یہ اقدام یوکرائن کے بحران اور اس کے نیم خود مختار علاقے کرائمیا میں روسی مداخلت کے ردعمل میں اٹھایا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق برطانوی حکومت نے ریفرنڈم کے بعد کرائمیا کے روس سے باضابطہ الحاق کے خلاف روس سے دو طرفہ فوجی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں ولیم ہیگ نے مزید کہا ہے کہ روس سے فوجی تعاون معطل کرنے کے بعد فرانس، روس، امریکا اور برطانوی بحریہ کی فوجی مشقیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ روس کے شہر سینٹ پیٹرس برگ میں طے شدہ بحری مشقوں میں رائل نیوی شرکت نہیں کرے گی۔

برطانوی وزیر خارجہنے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والے یورپی یونین کے رہنماؤں کے اجلاس میں برطانیہ، روس کے خلاف مزید پابندیوں لگانے کے فیصلے کی حمایت کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن نے یوکرائن تنازع پر تنہائی کا راستہ منتخب کیا ہے۔ ان کے بقول اگرچہ برطانیہ روس سے اس قسم کے رشتے کا خواہاں نہیں ہے لیکن اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کرائمیا کو آزاد ریاست تسلیم کئے جانے اور روس کے ساتھ کرائمیا کے الحاق پر روس کو مختلف ممالک کی جانب سے کڑی تنقید اور پابندیوں کا سامنا ہے۔

اس سے قبل امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے بھی روس اور یوکرین کی حکومت سے وابستہ متعدد عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ان کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG