رسائی کے لنکس

یورپین یونین سے علیحدگی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی مشقیں


یورپین یونین سے علیحدگی کے حامی لندن میں مظاہرہ کر رہے ہیں
یورپین یونین سے علیحدگی کے حامی لندن میں مظاہرہ کر رہے ہیں

برطانیہ کے سیاستدانوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ برطانیہ کو یورپین یونین سے کس انداز میں علیحدہ ہونا چاہئیے اور کیا اسے علیحدہ ہونا بھی چاہئیے یا نہیں۔ تاہم اس بات کے آثار بڑھ رہے ہیں کہ برطانیہ بغیر کسی معاہدے یا سمجھوتے کے خود بخود یورپین یونین سے نکل جائے گا۔

یورپین یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کیلئے حتمی تاریخ 29 مارچ ہے اور اس ملک کی حکومت اور کاروباری حلقے علیحدگی کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کیلئے تیاری کر رہے ہیں جس میں سپلائی چین، توانائی کا نیٹ ورک اور بینکنگ جیسی ماورائے سرحد خدمات کے معاملے شامل ہیں۔

برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی کے حوالے سے تناؤ کی کیفیت سڑکوں تک پھیل گئی ہے اور اس کے حق میں اور مخالف دونوں فریقین احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

متروک ایئر فیلڈ سے 150 ٹرک مشقیں کرتے ہوئے باہر نکل رہے ہیں۔
متروک ایئر فیلڈ سے 150 ٹرک مشقیں کرتے ہوئے باہر نکل رہے ہیں۔

پیر کی صبح اس حوالے سے افراتفری کی کیفیت دیکھی گئی جب ایک سو کے لگ بھگ ٹرکوں نے بریکسٹ پر کوئی سمجھوتہ نہ ہونے کے حوالے سے ایک مشق میں حصہ لیا۔ ایک متروک ایئر فیلڈ پر ٹرکوں کے قافلے کی قطاریں 30 کلومیٹر طویل ڈوور کی بندرگاہ تک جا پہنچیں۔

اس راستے سے ہر روز دس ہزار ٹرک گزرتے ہیں ۔ اس مشق کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کسٹمز یا سیکورٹی کے حوالے سے کسی تاخیر کے سبب ٹریفک لائنیں 50 کلومیٹر تک پھیل جائیں گی۔ ڈوور پارلیمان کے رکن چارلی ایل فیکے کہتے ہیں کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے بریکسٹ کی تیاریاں ایک احسن اقدام ہے ۔ تاہم ٹرانسپورٹ کی مشقیں برے پیمانے پر کرنے کی ضرورت ہے۔

برطانیہ کی یورپین یونین سے 29 مارچ کو حتمی علیحدگی برطانوی قانون میں درج کی جا چکی ہے۔ تاہم وزیر اعظم تھیریسا مے کی جانب سے علیحدگی کے حوالے سے پارلیمان سے ایک بل پاس کرانے کی کوشش میں کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ یورپین یونین سے مزید یقین دہانیوں اور مزید اقدامات کے حصول کیلئے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

درایں اثنا برطانوی معیشت سست روی کا شکار ہو گئی ہے اور اس مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ترقی کی شرح 0.1 فیصد رہی۔

بریکسٹ اور عالمی تجارتی کشیدگیوں کے باعث تمام تر یورپ کی معیشتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فرانس میں حکومت کے مخالف احتجاجی مظاہروں کے باعث اقتصادی ترقی میں گراوٹ پیدا ہوئی ہے۔ یہ تحریک برطانیہ تک پھیل گئی ہے۔ بریکسٹ کے حامی پیلے رنگ کی جیکٹیں پہن کر پارلیمان کا گھیراؤ کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ریفرنڈم کے نتائج کو حتمی قرار دیا جائے۔ مظاہرین میں سے ایک جیکی ہارکنز نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ ہمیں بریکسٹ چاہئیے اور ہم چاہتے ہیں یہ اسی وقت ہو۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی ادھورے اقدام کیلئے ووٹ نہیں دیا تھا۔ ہم نے باہر نکلنے کیلئے ووٹ دیا اور ہم باہر ہی نکلنا چاہتے ہیں۔

تاہم ریفرنڈم کے بعد ہونے والے عوامی آراء کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ لوگ یورپین یونین میں شامل رہنے کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔ ان جائزوں کے مطابق یورپین یونین میں شامل رہنے کی حمایت 54 فیصد ہے جبکہ 46 فیصد اب بھی علیحدگی چاہتے ہیں۔ یوں کچھ لوگ مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ اس بارے میں ایک مرتبہ پھر ریفرنڈم منعقد کیا جانا چاہئیے۔

تھیریسا مے کو توقع ہے کہ وہ علیحدگی کی حتمی تاریخ سے قبل یورپین یونین سے رعایتیں حاصل کر کے اپنے معاہدے کو بچا پائیں گی۔ تاہم برسلز کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے ساتھ بات چیت ختم ہو چکی ہے۔

کاروباری کمپنیاں برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔ بہت سے لوگ دواؤں اور خوراک کا ذخیرہ کر رہے ہیں تاکہ بعد میں اچانک اُن کی قلت کا سامنا نہ ہو۔

XS
SM
MD
LG