رسائی کے لنکس

logo-print

اسانج کے سویڈن بھیجنے کی جنگ برطانوی سپریم کورٹ میں


اسانج کے سویڈن بھیجنے کی جنگ برطانوی سپریم کورٹ میں

وکی لیکس کے بانی جیولین اسانج نے برطانیہ کی سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ خواتین سے زیادتی کے مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے انہیں جبری سویڈن بھیجے جانے کا راستہ روکے۔

وکلاء کا کہناہے کہ 40 سالہ اسانج نے عدالت کو بتایا کہ ان کی گرفتاری کے یورپی وارنٹ غیرقانونی ہیں کیونکہ انہیں سویڈن کے ایک پراسیکیوٹر نے جاری کیا ہے، نہ کہ کسی عدالت یا اس کے جج نے۔

سویڈن کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء کا کہناہے کہ اس کارروائی میں پراسیکیوٹرز کا کردار عدالتی یا نیم عدالتی نوعیت کا ہے ، اس لیے ان کی طرف سے جاری کردہ وارنٹ قانونی ہیں۔

سپریم کورٹ میں سماعت دو روز تک جاری رہے گی اور توقع ہے کہ آئندہ ہفتوں میں جج اس مسئلے پر اپنا فیصلہ جاری کردیں گے۔

اسانج نے خود پر لگائے جانے والے ان الزامات سے انکار کیا ہے کہ وہ جنسی زیادتی کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان کا کہناہے کہ ان الزامات کے پس منظر میں حکومتوں کے سیاسی مقاصد ہیں جو وکی لیکس کی سرگرمیوں پر ان سے برہم ہیں ۔

2010ء میں وکی لیکس نے امریکی محکمہ خارجہ کے ہزاروں چوری شدہ خفیہ مراسلات شائع کیے تھے۔

ان میں سے کئی مراسلوں میں دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق سرگرمیوں کی حساس معلومات اور کئی غیر ملکی راہنماؤں کے بارے محکمہ خارجہ کے عہدے داروں کے کھرے تبصرے بھی شامل تھے۔

XS
SM
MD
LG