رسائی کے لنکس

logo-print

بریگزٹ مؤخر کرنے کی تجویز پر ووٹنگ آج ہوگی


برطانوی پارلیمان کے دارالعوام کا ایک منظر (فائل فوٹو)

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی مؤخر کرنے کی قرارداد پر برطانوی پارلیمان میں آج رائے شماری ہو رہی ہے۔ برطانوی پارلیمان کے دارالعوام میں 'بریگزٹ' سے متعلق امور پر ووٹنگ کا جمعرات کو مسلسل تیسرا دن ہے۔

اس سے قبل پارلیمان نے منگل کو 'بریگزٹ' کا وہ نظرِ ثانی شدہ معاہدہ بھی مسترد کردیا تھا جس پر برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے اور یورپی قیادت نے ہنگامی مذاکرات کے بعد پیر کو اتفاق کیا تھا۔

برطانوی پارلیمان نے بدھ کو برطانیہ کے بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدگی کے امکان کو بھی کثرتِ رائے سے مسترد کردیا تھا۔

تاہم بغیر کسی معاہدے کے علیحدگی کی مخالفت پر مبنی اس قرارداد کی حیثیت علامتی ہے اور برطانوی حکومت اس پر عمل درآمد کی قانونی طور پر پابند نہیں۔

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے 29 مارچ کی تاریخ مقرر ہے۔ لیکن پارلیمان کی جانب سے 'بریگزٹ' معاہدہ مسترد کیے جانے اور بغیر کسی معاہدے کے علیحدگی کی مخالفت کے بعد اب حکومت کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ وہ پارلیمان کی منظوری ملنے کی صورت میں یورپی یونین سے علیحدگی کی ڈیڈلائن آگے بڑھانے کی درخواست کرے۔

ایسی کسی بھی درخواست کی منظوری یورپی یونین کے تمام رکن ملکوں کی رضامندی سے مشروط ہوگی۔ یونین کے رہنما بارہا خبردار کرچکے ہیں کہ ڈیڈلائن میں توسیع کے لیے برطانیہ کو ٹھوس وجوہات پیش کرنا ہوں گی۔

یورپی رہنما اس خواہش کا بھی اظہار کرچکے ہیں کہ ڈیڈلائن میں کوئی بھی ممکنہ توسیع بہت محدود مدت کے لیے ہونی چاہیے اور یہ معاملہ مئی میں ہونے والے یورپی پارلیمان کے انتخابات تک دراز نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن اگر مئی تک برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ نہ ہوا تو علیحدگی کی خواہش کے باوجود اسے یورپی پارلیمان کے انتخابات میں حصہ لینا پڑے گا۔

بدھ کو پارلیمان میں بغیر معاہدے کے بریگزٹ کی تجویز پر رائے شماری کے موقع پر وزیرِ اعظم تھریسا مے نے عندیہ دیا تھا کہ وہ اس معاہدے کو ایک بار پھر پارلیمان سے منظور کرانے کی کوشش کریں گی جس پر ان کی حکومت اور یورپی یونین نے دو سال کے طویل مذاکرات کے بعد اتفاق کیا تھا۔

برطانوی حکومت نے معاہدے کو پہلی بار رواں سال جنوری میں پارلیمان کے سامنے پیش کیا تھا جسے پارلیمان نے 230 ووٹوں کے بھاری فرق سے مسترد کردیا تھا۔

منگل کو معاہدے کے نظر ثانی شدہ مسودے کے حق میں 242 جب کہ مخالفت میں 391 ووٹ پڑے تھے۔

نظرِ ثانی شدہ معاہدہ بھی مسترد ہونے کےبعد حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی نے وزیرِ اعظم تھریسا مے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے اور ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔

برطانیہ کے عوام نے 2016ء میں ہونے والے ریفرنڈم میں 48 فی صد کے مقابلے میں 52 فی صد کی اکثریت سے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

لیکن اس ووٹ کے نتیجے میں برطانوی معاشرہ، سیاست اور سیاسی جماعتیں بری طرح تقسیم کا شکار ہوچکی ہیں اور گزشتہ تین سال سے یہ معاملہ برطانیہ اور یورپی یونین کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG