رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: سانحۂ پشاور پر پاکستانی کمیونٹی غمزدہ


برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی اہم شخصیات، شوبز اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے سانحہ پشاور پر گہرے دکھ اور رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔

خیبر پختوانخواہ کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع ایک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے اور 100 سے زائد معصوم بچوں کی ہلاکت پر جہاں پاکستان بھر میں سوگ کا سماں ہے وہیں دہشت گردوں کے سفاکانہ حملے نے عالمی برادی کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

لندن سمیت برطانیہ بھر کے اسکولوں میں بدھ کی صبح پشاور اسکول حملے میں ہلاک ہونے والے اساتذہ اور بچوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

لندن میں پاکستانی سماجی تنظیموں اور تعیلمی اداروں کی طلبہ تنظیموں کی جانب سے سانحہ پشاور میں مرنے والوں کے لیے شمعیں روشن کرنے کی تقریبات منعقد کرنےکا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایمپیریل کالج لندن میں بدھ کی شام معصوم بچوں کی یاد میں شمع روشن کی گئی۔

پشاور کے اسکول پر ہولناک حملے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے زیاں پرحکومت پاکستان کی جانب سے تین روزہ سوگ کے موقع پر برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن میں 17 دسمبر کو مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں۔ ہائی کمیشن کے دفتر میں تین روز کے لیے ایک تعزیتی کتاب بھی رکھ دی گئی ہے جس میں لوگ پشاور سانحے پر اپنے تاثرات درج کرسکتے ہیں۔

سولہ دسمبر کے سانحے کےبعد جہاں پورے پاکستان کی فضا سوگوار ہے وہیں دیار غیرمیں رہنے والے پاکستانیوں کے دل بھی غم سےنڈھال ہیں۔

پاکستانی نژاد برطانوی کمیونٹی کی اہم شخصیات، شوبز اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جانب سے سانحہ پشاور پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے۔

مشرقی لندن کی جامع مسجد غوثیہ کے امام علامہ جنید نے کہا ہے کہ یہ سانحہ دہشت گردی کی انتہا ہے جس کے لیے کوئی دلیل نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جن دہشت گردوں نے بچوں پر گولیاں چلائی ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا اور بچوں کے لواحقین کو دلاسہ دینے کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وطن سے ہزاروں میل دور رہنے والے پاکستانی بھی انتہائی غمزدہ ہیں اور منگل کو جب مسجد میں مرحومین کے لیے دعا کرائی گئی تھی تو اس میں لوگ شدت غم سےدھاڑیں مار مارکر رو رہے تھے۔

برطانیہ میں چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر عطا الحق نے واقعہ پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن دہشت گردوں نے پاکستان میں اسکول کے معصوم بچوں کا قتل عام کیا انھوں نے ان بچوں کے والدین کو بھی جیتے جی مار ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ اس سانحے کے بعد پاکستان کی مائیں بچوں کو کیسے اسکول بھیجیں گی اور اپنے بچوں کے دلوں سے درسگاہوں کا خوف کیسے دور کریں گی؟

پاکستانی نژاد برطانوی گلوکار اور ادکار یاسراختر نے کہا کہ غمزدہ خاندانوں کے غم کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دشمن اس بار کامیاب ہو گئے ہیں کیونکہ یہ سانحہ ہماری نئی نسل پربہت برا اثر چھوڑے گا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا یوم سیاہ تھا۔ ہمیں پاکستان کی قیادت سے بہت امیدیں تھیں لیکن آج کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس کا اختتام جس ہلکے پھلکے ماحول میں ہوا ہے اسے دیکھ کرمایوسی اور بڑھ گئی ہے۔

برطانیہ کی یارک شائر کاونٹی میں پاکستان تحریک انصاف کے صدر اسلم بوٹا نے شدید رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشاور اسکول میں دہشت گردی کا واقعہ حکومت اور صوبائی حکومت دونوں کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن، ان کے بقول، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کے مفادات کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ یہ ان کے لیے انا کی جنگ نہیں تھی اس وقت پاکستانی قوم کو اتحاد کی ضرورت ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی پشاور سانحے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کا ایک تاریک دن قرار دیا اور کہا ہے کہ اس بہیمانہ فعل کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ ان کے بقول انتہا پسندی کے نظریے کا عظیم مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG