رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی پارلیمنٹ میں آزاد فلسطین کی حمایت میں قرارداد منظور


برطانوی پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں علامتی قرارداد آزاد فلسطین کےحامی وزراٴ کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس پر پیر کے روز ووٹنگ ہوئی۔ رائے شماری کے نتائج کے مطابق، آزاد فلسطین کی حمایت میں 274 ووٹ اور مخالفت میں 12 ووٹ ڈالے گئے

برطانوی پارلیمنٹ میں فلسطین کو ریاست کےطور پر تسلیم کرنے سے متعلق علامتی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔

برطانوی پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں علامتی قرارداد آزاد فلسطین کےحامی وزراٴ کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس پر پیر کے روز ووٹنگ ہوئی۔ رائے شماری کے نتائج کے مطابق، آزاد فلسطین کی حمایت میں 274 ووٹ اور مخالفت میں 12 ووٹ ڈالے گئے۔

فائنل ووٹنگ کے دن، وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور رکن پارلیمنٹ جارج گیلووے سمیت ارکان پارلیمنٹ کی ایک بڑی تعداد نے رائے دہی کے اظہار سے گریز کیا اور ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے، رائٹرز کے مطابق، اگرچہ پارلیمنٹ میں یہ قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی ہے۔ لیکن، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعے کے بارے میں یہ برطانیہ کی سرکاری پوزیشن کی علامت نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق، ڈیوڈ کیمرون کے ترجمان کی جانب سے پہلے ہی واضح کر دیا گیا تھا کہ قرارداد کا نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے اس سے برطانیہ کی خارجہ پالیسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ برطانیہ نے فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ لیکن، فلسطین اور اسرائیل تنازعہ کے حل اور امن کے عمل کی تعمیری کوششوں کے طور پر فلسطین کو ریاست کے طور پر کسی بھی وقت کبھی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

علامتی قرارداد میں کہا گیا کہ 'پارلیمنٹ کو یقین ہے کہ فلسطین اسرائیل تنازعہ کے حل کی کوششوں کے طور پر حکومت کو اسرائیل کی طرح فلسطین کو بھی ایک خودمختار ریاست تسلیم کرلینا چاہیئے۔'

پارلیمنٹ میں علامتی قرارداد پیش کرنے والے لیبر پارٹی کے رہنما، گراہم مورس نے کہا ہے کہ فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے سے تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے گا، جو دو ریاستی حل میں پوشیدہ ہے۔

رکن پارلیمنٹ گراہم مورس نےکہا کہ 'یہ ایک تاریخی موقع ہے، جب فلسطینوں کی خود ارادیت کی حمایت کرنے کے لیے چھوٹا لیکن علامتی قدم اٹھایا گیا ہے۔‘

خودمختار فلسطین کی حمایت میں ایک آن لائن درخواست پر ایک لاکھ دستخط جمع ہونے کے بعد برطانوی دارلعوام میں پہلی بار، 2012 میں فلسطین کے مسئلے پر بحث کی میزبانی کی گئی تھی۔

سویڈن کی پارلیمنٹ نے حال ہی میں فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی حمایت میں ووٹ ڈالے ہیں۔ اس طرح سویڈن یورپی یونین کا وہ پہلا ملک ہے جس نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG