رسائی کے لنکس

مے کے بقول، ’’اگر ’ویسٹ منسٹر‘ کی سوچ میں فرق آتا ہے تو برطانیہ کی علیحدگی کے عمل کی ہماری صلاحیت خطرے میں پڑ جائے گی اور اس سے ملک میں نقصان دہ غیر یقینی اور عدم استحکام بڑھے گا۔ اس لیے ہمیں عام انتخابات کی ضرورت ہے اور ہمیں اب اِسی کی ضرورت ہے‘‘

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے منگل کے روز اعلان کیا کہ آٹھ جون کو قبل از وقت انتخابات کرائے جائیں گے۔


یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے عمل کے سرکاری آغاز کے تین ہفتے بعد، مے نے کہا کہ مخالف جماعتیں اس عمل کو پٹری سے اتارنے کی دھمکی دے رہی ہیں اور عوام کی طرح پارلیمان اُسی طرزِ عمل کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہے۔


مے کے بقول، ’’اگر ’ویسٹ منسٹر‘ کی سوچ میں فرق آتا ہے تو برطانیہ کی علیحدگی کے عمل کی ہماری صلاحیت خطرے میں پڑ جائے گی اور اس سے ملک میں نقصان دہ غیر یقینی اور عدم استحکام بڑھے گا۔ اس لیے ہمیں عام انتخابات کی ضرورت ہے اور ہمیں اب اِسی کی ضرورت ہے‘‘۔


ایوانِ زیریں کی جانب سے نئے انتخابات کے مطالبے کی منظوری باقی ہے۔

حزب مخالف کی کلیدی جماعت، لیبر پارٹی کے قائد، جیرمی کوربین نے مے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس سے برطانوی عوام کو ایک ایسی حکومت کے لیے ووٹ دینے کا موقع ملے گا جو اکثریت کے مفادات کو اہمیت دیتی ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG