رسائی کے لنکس

نمازیوں پر حملہ مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی تھا: تھریسا مے


بقول اُن کے، ’’اور ہر قسم کی دہشت گردی کی طرح، اس کا بنیادی ہدف ایک ہی تھا کہ ہمارے عزم کو توڑا جائے؛ تاکہ ہمارے درمیان یکجہتی اور مشترکہ شہری ہونے کے قیمتی اثاثے کے تعلق کو نقصان پہنچایا جائے، جو اس ملک کی اساس ہے۔ ہم ہرگز ایسا نہیں ہونے دیں گے‘‘

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے پیر کے روز علی الصبح لندن کی مسجد کے باہر راہگیروں پر گاڑی چڑھانے کے واقع کو مسلمانوں کے خلاف ہونے والی’’قبیح‘‘ دہشت گردی قرار دیا ہے۔

شمالی لندن کے علاقے ’فنسبری پارک‘ کی مسجد کے قریب ’مسلم ویلفئر ہاؤس‘ پر نصف شب باہر نکلنے والے نمازیوں کے ایک گروپ پر گاڑی چڑھا دی گئی۔ یہ برطانیہ میں مسلمان برادری کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

دہشت گردی کے اس واقع میں ایک شخص موقع پر ہلاک ہوا۔ لیکن، یہ واضح نہیں ہو پایا آیا اُن کی موت حملے کی وجہ سے واقع ہوئی یا پھر کسی اور سبب کے باعث ہوئی۔

مے نے اعلان کیا کہ متبرک ماہِ رمضان کے اختتام پر عید کی خوشیاں منانے سے پہلے پولیس مساجد کی سکیورٹی کا جائزہ لے گی اور سکیورٹی کے مزید وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

ٹیلی ویژن خطاب میں، اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ عبادت گاہ کے قریب، مسلمانوں پر حملہ تھا‘‘۔

بقول اُن کے، ’’اور ہر قسم کی دہشت گردی کی طرح، اس کا بنیادی ہدف ایک ہی تھا کہ ہمارے عزم کو توڑا جائے؛ تاکہ ہمارے درمیان یکجہتی اور مشترکہ شہری ہونے کے قیمتی اثاثے کے تعلق کو نقصان پہنچایا جائے، جو اس ملک کی اساس ہے۔ ہم ہرگز ایسا نہیں ہونے دیں گے‘‘۔

لندن کے میئر، صادق خان نے واقعے کو ’’ہمارے شہر میں ہونے والا ایک خوفناک دہشت گرد حملہ‘‘ قرار دیا؛ جب کہ وزیر اعظم تھریسا مے نے کہا کہ ’’یہ مسلمانوں کے خلاف حملہ تھا جو اُن کی عبادت گاہ کے قریب کیا گیا۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG