رسائی کے لنکس

logo-print

نو منتخب برطانوی پارلیمان سے ملکہ الزبیتھ کا خطاب


برطانوی روایات کے مطابق اس اہم تقریر میں ملکہ برطانیہ نے ان قوانین کا ذکر کیا جو نئی حکومت پارلیمان کے ذریعے منظور کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

نو منتخب برطانوی حکومت کی افتتاحی تقریب کے سلسلے میں ملکہ برطانیہ الزبیتھ دوئم نے بدھ کو پارلیمنٹ کےدونوں ایوانوں سےشاہی خطاب کیا ہے۔

برطانوی روایات کے مطابق اس اہم تقریر میں ملکہ برطانیہ نے ان قوانین کا ذکر کیا جو نئی حکومت پارلیمان کے ذریعے منظور کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

برطانیہ میں رائج آئینی بادشاہت کے نظام میں ملک کی فرماں روا ہونے کی حیثیت سے ملکہ برطانیہ نے اپنی تقریر میں آنے والے برسوں میں نو منتخب پارلیمان میں زیر بحث لائے جانے والے 26 مجوزہ قوانین کا ذکر کیا۔ تاریخی اعتبار سے اٹھارہ سال بعد ملکہ عالیہ کی یہ مکمل کنزرویٹیو تقریر تھی۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت نے اس تقریر میں مستقبل کےحوالے سے قانون سازی متعارف کرانے کا وعدہ کیا ہے جس میں انسانی حقوق کے قانون میں تبدیلی کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے اور انتہا پسندی پر پابندی لگانے کا نیا قانون متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کی رکنیت پر ریفرنڈم کرانے کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے مطابق مجوزہ قوانین ملازمت پیشہ لوگوں کے لیے ہیں۔ اس ایجنڈے کے تحت ہر وہ شخص جو کام کرنا چاہتا ہے اسے کام ملے گا یا دوسرے لفظوں میں اسے مکمل روزگار فراہم کیا جائے گا۔

ملکہ عالیہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ "میری حکومت ملک میں ہر کسی کے مفاد میں قانون سازی کرے گی۔ یہ حکومت ایک قومی نقطئہ نظر کو اپنائے گی۔"

انھوں نے کہا کہ نئے اقدامات کے تحت حکومت ملازمت پیشہ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے بچوں کی مفت نگہداشت کو دوگنا کرے گی۔ اس کے علاوہ گھر کی ملکیت کی حمایت کے لیے قانون سازی کے تحت کرایہ داروں کو گھر کی ملکیت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا جبکہ ٹیکس، ویٹ اور نیشنل انشورنس میں اضافے پر پابندی کو مزید پانچ سالوں کے لیے بڑھایا جائے گا۔

کوئین الزبیتھ نے کہا کہ "میری حکومت میں توانائی کے تحفظ اور امیگریشن کنٹرول پر اضافے سے متعلق قوانین متعارف کرائے جائیں گے۔"

"نئے اقدامات کے تحت قومی صحت کا ادارہ این ایچ ایس 2020ء تک سات روزہ صحت کی دیکھ بھال کی خدمات تک رسائی فراہم کرے گا۔ یہ حکومت یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے اصلاحات لائے گی اور ابتدائی قانون سازی کے ذریعے 2017 کے اختتام سے پہلے یورپی یونین کی رکنیت پر ریفرنڈم کرائے گی۔

نئی حکومت میں اسکاٹ لینڈ کو مزید اختیارات دینے کا وعدہ کیا گیا ہے جبکہ اسکاٹ لینڈ حکومت 40 فیصد ٹیکس اور 60 فیصد اخراجات کی ذمہ دار ہوگی۔

ملکہ برطانیہ کی تقریر میں انسانی حقوق کے یورپی قوانین کو برطانوی قانون کے ساتھ تبدیل کرنے کے لیے مکمل قانون سازی کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اگرچہ ٹوری منشور میں برطانوی عدالتوں اور یورپی عدالتوں کے درمیان رسمی تعلق کو توڑنے کا وعدہ شامل ہے، جس کے تحت برطانوی سپریم کورٹ انسانی حقوق کے معاملات کی حتمی عدالت ہو گی۔

تاہم ملکہ برطانیہ نے اس بات کا عندیہ دیا کہ نئی حکومت برطانوی انسانی حقوق کی تجاویز کو آگے لے کر آئے گی۔

تجز یہ کاروں کا کہنا ہے کہ تقریر میں انسانی حقوق سے متعلق قوانین کے لیے تجاویز کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ اس قانون پر مشاورت ہونے کی توقع ہے۔

خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگرچہ ڈیوڈ کیمرون کی حکمراں پارٹی کنزرویٹو پارلیمان میں سادہ اکثریت رکھتی ہے، لیکن مجوزہ قانون کی منظوری کے لیے اسے اپنے سینئر رہنماؤں کی مخالفت کا سامنا ہے، جبکہ ہاوس آف لارڈز میں جہاں کنزرویٹو کو اکثریت حاصل نہیں ہے اسے مسترد کیے جانے کا امکان ہے۔

مشتبہ دہشت گردوں کو آن لائن کمیونیکشن کے ذریعے نشانہ بنانے کے لیے پولیس اور خفیہ اہلکاروں کو موبائل فونز کالز، ای میلز اور ویب سائٹس تک رسائی دینے کے لیے مزید اختیارات دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت مواصلاتی کمپنیوں کے لیے فون کالز، سوشل میڈیا پیغامات، وائس میل اور اسی طرح اسکائپ جیسی اپیلی کیشنز کی معلومات کو 12 ماہ تک برقرار رکھنے کی شرط شامل ہے۔

اس قانون کے تحت وزارت داخلہ کو شدت پسند گروپوں پر پابندی عائد کرنے اور انتظامیہ کو دہشت گردی کی حمایت کرنے والے مقامات پر پابندی لگانے کی اجازت دی جائے گی۔ اسی طرح انتہا پسند خیال کیے جانے والے لوگوں پر برطانیہ میں داخلے پر قدغن لگائی جاسکے گی۔

XS
SM
MD
LG