رسائی کے لنکس

logo-print

والد کو زندگی میں مداخلت سے روکنے کے لیے برٹنی اسپیئرز کا عدالت سے رجوع


برٹنی اسپیئرز۔ فائل فوٹو

امریکی گلوکارہ برٹنی اسپیئرز نے والد کو اپنی زندگی میں اثر انداز ہونے سے روکنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ گلوکارہ کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اور فنی زندگی میں والد کا مزید کنٹرول نہیں چاہتیں۔

برٹنی اسپیئرز کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 12 برسوں سے اُن کے والد اُن کی ذاتی اور فنی زندگی کے ہر فیصلے پر اثر انداز ہو رہے تھے، لیکن اب وہ ایسا نہیں چاہتیں۔

38 سالہ پاپ گلوکارہ کے وکیل نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا ہے کہ اُن کی موکلہ کے والد 2008 سے 2019 تک اُن کی آمدنی اور دیگر اُمور کی نگرانی کر رہے تھے۔ گزشتہ سال بیماری کی وجہ سے وہ الگ ہو گئے تھے، لیکن اب بریٹنی اُنہیں فیصلہ سازی سے دُور رکھنا چاہتی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ برٹنی کے والد جیمز اسپیئرز کو اپنی بیٹی کی زندگی میں مداخلت سے روکا جائے۔

امریکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص کی عمر یا ذہنی پختگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے عدالت نگران مقرر کرتی ہے جو اس کی ذاتی زندگی کے معاملات اور اخراجات کی نگرانی کرتا ہے۔

برٹنی کے والد ایک اور وکیل اینڈریو والٹ کے ہمراہ 2019 تک بریٹنی کے معاملات کی نگرانی کر رہے تھے، تاہم وکیل اینڈریو گزشتہ سال مستعفی ہو گئے تھے جس کے بعد اُن کے والد یہ ذمہ داری نبھا رہے تھے۔

برٹنی اسپیئرز کا کہنا ہے کہ وکیل اینڈریو کے جانے کے بعد اُن کے والد کو اُن کی آمدنی اور دیگر معاملات پر نظر رکھنے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے جو وہ نہیں چاہتیں۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق برٹنی کے والد کے وکیل کو موقف جاننے کے لیے ای میل کی گئی جس کا جواب موصول نہیں ہوا۔

برٹنی کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ وکیل جوڈی منٹگمری ہی اُن کے معاملات کی نگرانی کریں جنہیں عارضی طور پر یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ مستقبل قریب میں برٹنی پرفارم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG