رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: توہین مذہب کی سزا کے خلاف بدھ خاتون کی اپیل مسترد


میلیانا مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے کمرے میں

انڈونیشیا کی سپریم کورٹ نے ایک بدھ خاتون شہری میلیانا کی طرف سے توہین مذہب کی سزا کے خلاف اپیل خارج کر دی ہے۔

44 سالہ میلیانا شمالی سماٹرا کے شہر تینجنگ بالاج کی رہائشی ہیں اور اُنہوں نے مبینہ طور پر 2016 میں اپنے ایک ہمسائے سے درخواست کی تھی کہ قریبی مسجد میں مغرب کی اذان کی آواز بہت اونچی ہے اور اسے دھیما کر دینا چاہئیے۔ اُن کی یہ درخواست پورے علاقے میں پھیل گئی اور سوشل میڈیا پر بھی اس پر شدید تنقید شروع ہو گئی ۔ بہت سے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ توہین مذہب کی مرتکب ہوئی ہیں۔

اس کے نتیجے میں علاقے میں فسادات شروع ہو گئے اور مشتعل لوگوں نے کئی بدھ مندروں کو نذر آتش کر دیا۔ انڈونیشیا کی علما کونسل نے 2017 میں یہ فتویٰ جاری کیا کہ میلیانا توہین مذہب کی مرتکب ہوئی ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے خاتون کے خلاف توہین مذہب کے قانون کی خلاف ورزی کی رپورٹ درج کر لی۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد اُنہیں توہین مذہب کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 18 ماہ قید کی سزا سنا دی۔

میلیانا نے اس سزا کے خلاف ملک کی سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی جسے آج اعلیٰ عدالت نے مسترد کرتے ہوئے اُن کی سزا کو بحال رکھا۔

’’ہیومن رائٹس واچ‘‘ اور ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘ سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس فیصلے کو ایک تشویشناک مثال قرار دیا ہے۔

انڈونیشیا کے ادارہ برائے کریمنل جسٹس ریفارم اور خواتین کے خلاف تشدد کے کمشن نے میلیانا کی سزا پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ میلیانا کی وکیل رینٹو سیبارانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ میلیانا اس سزا کے خلاف ایک اور اپیل داخل کریں گی۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کی مؤکل کو سزا محض افواہوں اور حقائق تو توڑ مڑوڑ کر پیش کرنے کی بنیاد پر دی گئی ہے اور یہ غلط ہے۔

انڈونیشیا کی سپریم کورٹ نے سزا کے خلاف اپیل خارج کرنے کا فیصلہ اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے ۔ تاہم فیصلے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سزا کے خلاف اپیل کس بنیاد پر خارج کی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG