رسائی کے لنکس

logo-print

'بلدیو کمار کی اہل خانہ اور رشتہ داروں سے بول چال بند تھی'


بلدیو کمار نے بھارت میں پریس کانفرس کر کے سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے سکھ رہنما اور سابق رکن خیبرپختونخوا اسمبلی بلدیو کمار کی جانب سے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست پر ان کے بھائیوں نے لا علمی کا اظہار کیا ہے۔

بلدیو کمار کے بھائیوں نے کہا ہے کہ ہندوستان جانے اور وہاں پر سیاسی پناہ طلب کرنے کے لیے نہ تو ان سے کوئی مشورہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں انہیں کوئی اطلاع دی گئی تھی۔

بلدیو کمار کے بھائی تلک کمار نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلدیو کمار عید الاضحیٰ سے چند روز قبل بھارت گئے تھے۔

تلک کمار کے بقول بلدیو کی بیوی اور بچے پانچ ماہ قبل ہی بھارت جا چکے تھے۔ بلدیو کی ایک بیٹی خون کی بیماری تھیلیسمیا میں مبتلا ہے جب کہ بلدیو کے سسرال والوں کا تعلق بھی بھارت سے ہے۔

تلک کمار نے کہا کہ بلدیو کمار کی رہائی کے بعد سے اب تک خاندان اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ ان کی بول چال بند تھی۔

خیال رہے کہ بلدیو کمار پاکستان تحریکِ انصاف کے اقلیتی رکنِ صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں جب کہ وہ سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے مشیر سورن سنگھ کے قتل کے الزام میں جیل بھی جا چکے ہیں۔

بلدیو کمار کو سوات کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اپریل 2018 میں بری کر دیا تھا۔ لیکن سورن سنگھ کے ورثأ نے اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہوا ہے۔

دوسری جانب سردار سورن سنگھ کے بیٹے اجے سورن سنگھ نے کہا ہے کہ انہیں معلوم نہیں کہ کس طرح قتل کا ایک ملزم ہندوستان پہنچ گیا ہے۔

ان کے بقول پشاور ہائی کورٹ میں بلدیو کے خلاف درخواست زیرِ سماعت ہے، ایسے میں انہیں کیسے ملک سے باہر جانے دیا گیا؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی نے بتایا ہے کہ قتل کے الزام کے بعد بلدیو کمار کی پارٹی رکنیت معطل کر دی گئی تھی۔ اور اسی بنیاد پر انہیں صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف لینے سے بھی روک دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بلدیو کمار کے دیگر دو بھائی امر ناتھ اور تلک کمار اب بھی پاکستان تحریکِ انصاف سے منسلک ہیں۔

خیال رہے کہ سردار سورن سنگھ کے بعد بلدیو کمار کا نام حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کی ترجیحی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھا۔

اسی وجہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان کے ممبر صوبائی اسمبلی کی حیثیت سے منتخب ہونے کا اعلامیہ جاری کیا تھا۔ لیکن صوبائی اسمبلی کی مزاحمت پر انہیں حلف لینے سے روک دیا گیا تھا۔

ایک بار پاکستان تحریکِ انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی ارباب جہانداد خان نے بلدیو کمار پر جوتا بھی پھینکا تھا۔

واضح رہے کہ بلدیو کمار سے قبل 1997 میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے سردار گیان چند نے بھی سکیورٹی خدشات کی بنا پر پہلے بھارت اور بعد ازاں برطانیہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔

بلدیو کمار نے بھارت میں منگل کو ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ جس میں انہوں نے پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ زیادتیوں کا الزام لگایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی بنیاد پر وہ بھارت میں مستقل رہائش کی اجازت اور سیاسی پناہ کی درخواست بھی دے چکے ہیں۔

بلدیو کمار نے بھارتی نشریاتی اداروں کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے خلاف الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے خصوصی طور پر سکھ برادری کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں سکھ کمیونٹی کو حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG