برہانی مسجد تنگ گلیوں کے دوران واقع ہے، جبکہ اس کا مرکزی گیٹ بھی ایک بغلی اور تنگ گلی میں واقع ہے اور کثیرالمنزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ مسجد چاروں جانب سے دکانوں اور دیگر تجارتی مراکز سے گھیری ہوئی ہے۔
کراچی کے علاقے آرام باغ میں برہانی مسجد کے مرکزی دروازے پر جمعہ کی دوپہر ہونے والے حملے کو داوٴدی بوہرہ جماعت پر تیسرا حملہ قرار دیا جارہا ہے، جبکہ اس حملے میں مرنے والوں کی تعداد 2 ہوگئی ہے۔ 20 افرادکے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ڈی آئی جی عبدالخالق شیخ نے تصدیق کی ہے کہ دھماکہ موٹرسائیکل کے ذریعے کیا گیا۔دھماکے کے بعد میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد بھر کر اسے مسجد کے قریب پارک کرکے فرار ہوگئے اور جیسے ہی نماز جمعہ ختم ہوئی اور لوگوں نے مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا گیا جس سے ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
دھماکے کے فوری بعد، جائے حادثہ پر پہنچنے والوں میں وائس آف امریکہ کا نمائندہ بھی شامل تھا۔ برہانی مسجد تنگ گلیوں میں واقع ہے جبکہ اس کا مرکزی گیٹ بھی ایک بغلی اور تنگ گلی میں واقع ہے اور کثیرالمنزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔
کراچی میں برہانی مسجد کے باہر دھماکا
1/9برہانی مسجد کا ایک منظر۔ مسجد کی عمارت کثیر المنزلہ ہے
نامعلوم افراد موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد بھر کر اسے مسجد کے قریب کھڑا کرنے کے بعد فرار ہوگئے اور جیسے ہی نماز جمعہ ختم ہوئی اور لوگوں نے مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا ’ٹائم ڈیوائس‘ کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا گیا
2/9دادی بوہرہ جماعت کے افراد جائے وقوع کے قریب جمع ہیں
نامعلوم افراد موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد بھر کر اسے مسجد کے قریب کھڑا کرنے کے بعد فرار ہوگئے اور جیسے ہی نماز جمعہ ختم ہوئی اور لوگوں نے مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا ’ٹائم ڈیوائس‘ کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا گیا
3/9برہانی مسجد کا مرکزی دروازہ اسی تنگ گلی میں واقع ہے جہاں دھماکہ ہوا
نامعلوم افراد موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد بھر کر اسے مسجد کے قریب کھڑا کرنے کے بعد فرار ہوگئے اور جیسے ہی نماز جمعہ ختم ہوئی اور لوگوں نے مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا ’ٹائم ڈیوائس‘ کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا گیا
4/9مسجد کے قریب ہی واقع برہانی اسپتال جہاں زخمیوں کو فوری طبی امداد دی گئی
نامعلوم افراد موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد بھر کر اسے مسجد کے قریب کھڑا کرنے کے بعد فرار ہوگئے اور جیسے ہی نماز جمعہ ختم ہوئی اور لوگوں نے مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا ’ٹائم ڈیوائس‘ کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا گیا
نامعلوم افراد موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد بھر کر اسے مسجد کے قریب کھڑا کرنے کے بعد فرار ہوگئے اور جیسے ہی نماز جمعہ ختم ہوئی اور لوگوں نے مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا ’ٹائم ڈیوائس‘ کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا گیا
6/9مسجد کے قریب بوہرہ جماعت سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی۔ پریشانی کے عالم میں کھڑی ہے
نامعلوم افراد موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد بھر کر اسے مسجد کے قریب کھڑا کرنے کے بعد فرار ہوگئے اور جیسے ہی نماز جمعہ ختم ہوئی اور لوگوں نے مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا ’ٹائم ڈیوائس‘ کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا گیا
نامعلوم افراد موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد بھر کر اسے مسجد کے قریب کھڑا کرنے کے بعد فرار ہوگئے اور جیسے ہی نماز جمعہ ختم ہوئی اور لوگوں نے مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا ’ٹائم ڈیوائس‘ کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا گیا
8/9مسجد کے مرکزی دروازے تک جانے والی گلی جہاں کسی کو بھی نہیں جانے دیا گیا
نامعلوم افراد موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد بھر کر اسے مسجد کے قریب کھڑا کرنے کے بعد فرار ہوگئے اور جیسے ہی نماز جمعہ ختم ہوئی اور لوگوں نے مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا ’ٹائم ڈیوائس‘ کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا گیا
نامعلوم افراد موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد بھر کر اسے مسجد کے قریب کھڑا کرنے کے بعد فرار ہوگئے اور جیسے ہی نماز جمعہ ختم ہوئی اور لوگوں نے مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا ’ٹائم ڈیوائس‘ کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا گیا
Previous slide
Next slide
مسجد چاروں جانب سے دکانوں اور دیگر تجارتی مراکز سے گھیری ہوئی ہے۔ اس کے ایک جانب داوٴی بوہرہ جماعت کے زیر انتظام چلنے والا ’برہانی اسپتال‘ ہے جہاں واقعے کے تقریباً دس زخمیوں کو لایا گیا اور طبی امداد دی گئی۔
دھماکے کی اطلاع کے ساتھ ہی یہاں درجنوں ایمبولینسز پہنچ گئیں، جبکہ علاقہ مکینوں کی بھی بہت بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔بھیڑ اور تنگ گلیوں کے سبب زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں امدادی ٹیموں کو خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
جس علاقے میں یہ مسجد واقع ہے وہاں کے رہائشیوں اور تاجروں کی اکثریت داوٴدی بوہرہ جماعت سے تعلق رکھتی ہے۔ کمیونٹی کے زیادہ تر افراد تجارت کا پیشہ اپناتے ہیں اور ان سے متعلق عمومی رائے یہ ہے کہ وہ کسی کے معاملے میں نہیں پڑتے اور کراچی کے دیرینہ و تجربہ کار شہریوں کے مشاہدے کے مطابق انہیں نہایت’بے ضرر ‘تصور کیا جاتا ہے۔
جمعہ کو ہونے والے حملے کو تیسرا حملہ شمار کیا جارہا ہے۔ اس سے دو سال پہلے رمضان میں حیدری کے علاقے میں بھی بم حملہ ہوچکا ہے۔ حیدری میں بھی اس کمیونٹی کی اکثریت آباد ہے۔
حیدری حملے کے آس پاس ہی سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے ایک علاقے میں بھی برہانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں پر نامعلوم نے حملہ کرکے انہیں جانی نقصان پہنچایا تھا۔