رسائی کے لنکس

logo-print

برما کو جمہوری اصلاحات پر مراعات دی جائیں: سینیٹر جیمز ویب


ایک بااثر امریکی سینیٹر نے کہاہے کہ وہ امریکی عہدے داروں پر زور دیں گے کہ وہ برما میں جمہوریت کی جانب مزید حالیہ اقدامات پر انہیں رعائتیں دینے کے طریقے ڈھونڈیں۔

سینیٹر جیمز ویب نے یہ بیان بدھ کے روز رنگون میں دیا۔جب کہ اسی روز حزب اختلاف کی راہنما آنگ ساں سوچی نے گذشتہ ہفتے انتخابات میں اپنی تاریخی کامیابی کے بعد صدر تھین سین سے ملاقات کی تھی۔

ویب 2009ء میں ایک عشرے سے زیادہ عرصے میں برما کا دورہ کرنے والے سب سے سینیئر امریکی عہدے دار تھے۔

انہوں نے بدھ کو کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ برماکو اس کی حالیہ اصلاحات پر مراعات کی فراہمی کے لیے زیادہ اقدامات کرے۔

امریکہ نے یکم اپریل کے ضمنی انتخابات سے ، جن میں آنگ ساں سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے 45 میں سے 43 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، کچھ معاشی پابندیوں میں پہلے ہی نرمی کردی ہے۔

حالیہ انتخابات کے بعد آنگ ساں سوچی کی جماعت پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت بن گئی ہے۔

پارلیمنٹ میں فوج کی حمایت یافتہ پارٹیوں کو اکثریت حاصل ہے۔

این ایل ڈی نے 2010ء میں برما میں فوجی اقتدار کے خاتمے کے لیے ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیاتھا۔

صدر تھین سین نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے ایک سال کے اندرکئی جمہوری اصلاحات نافذ کی ہے جن میں پریس کی آزادی اور بہت سے سیاسی قیدیوں کی رہائی شامل ہیں۔

آنگ ساں سوچی نے صدر تھین سین سے پہلی بار گذشتہ اگست میں ملاقات کی تھی۔ ان مذاکرات نے گذشتہ 22 سال کے دوران 15 سال نظر بندی میں گذارنے کے بعد جمہوریت پسند راہنما کے سیاست میں دوبارہ داخلے کی راہ ہموار کی تھی۔

XS
SM
MD
LG