رسائی کے لنکس

logo-print

برما: سیاسی قیدیوں کی رہائی پر عالمی تنظیموں کا محتاط ردِعمل


برما کی حکومت نے رواں ہفتے 514 قیدیوں کو عام معافی دینے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

برما کی حکومت کی جانب سے سیاسی قیدیوں کی حالیہ رہائی پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں نے محتاط ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ برمی حکومت کی جانب سے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کے وعدوں کے باوجود اب بھی سیکڑوں ایسے افراد ملک کی جیلوں میں موجود ہیں۔

یاد رہے کہ برما کی حکومت نے رواں ہفتے 514 قیدیوں کو عام معافی دینے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کےمطابق جن قیدیوں کو عام معافی دی گئی ہے ان میں سے 90 فی صد کو حکومت سے اختلاف اور سیاسی دشمنی کی بنیاد پر قیدی بنایا گیا تھا۔

برما کے صدر تھین سین کی حکومت کی جانب سے گزشتہ ایک برس کے دوران میں سیاسی قیدیوں کو دی جانے والی یہ چوتھی عام معافی ہے۔

صدر سین کی سربراہی میں گزشتہ برس اقتدار سنبھالنے والی برائے نام سول حکومت نے ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیوں کے خاتمے، عوام کو سیاسی آزادیوں کی فراہمی اور مقامی باغی قبائلیوں کے ساتھ امن معاہدوں سمیت ملک میں کئی اصلاحات کی ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے بدھ کو جاری کیے جانے والے اپنے ایک تحریری بیان میں سیاسی قیدیوں کو دی جانے والی حالیہ معافی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے برمی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے تمام قیدیوں کی رہائی کا اپنا وعدہ پورا کریں۔

تنظیم کے نیویارک میں قائم صدر دفتر سے جاری بیان میں برمی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں آزاد مبصرین کو جانے کی اجازت دے تاکہ وہ یہ اندازہ لگاسکیں کہ اب بھی وہاں کتنے ایسے قیدی موجود ہیں جنہیں سیاسی بنیادوں پر پابندِ سلاسل رکھا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG