رسائی کے لنکس

برمی تاجر کے خلاف یورپی پابندیاں غیر قانونی قرار


آنگ سان سو چی
آنگ سان سو چی

برما کے معروف تاجر پائی پھیو ٹیزا کے خلاف انسانی حقوق اور جمہوریت کی خلاف ورزی کے قابلِ قدر شواہد موجود نہیں: یورپین کورٹ آف جسٹس

یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت نےبرما کی سابق فوجی حکومت سے تعلقات رکھنے والے ایک برمی تاجر پرعائد سفری اوراقتصادی پابندیوں کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔

'یورپین کورٹ آف جسٹس' کی جانب سے منگل کو جاری کیے جانے والے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ برما کے معروف تاجر پائی پھیو ٹیزا کے خلاف انسانی حقوق اور جمہوریت کی خلاف ورزی کے قابلِ قدر شواہد موجود نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ پھیو ٹیزا کے والد کے برما کی سابق فوجی جنتا سے گہرے تعلقات تھے جس کے باعث یورپی یونین نے 2008ء میں ان کا نام ان افراد کی فہرست میں شامل کرلیا تھا جن پر برما کی فوجی حکومت کی معاشی پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے کے الزام میں پابندیاں عائد ہیں۔

برمی تاجر نے یورپی یونین کے فیصلے کے خلاف 2008ء میں یورپی عدالت میں اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے اپنے والد کے کاروبار اور فوجی جنتا کی کاروباری سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔

یورپی عدالت پہلے ہی اپنے فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ مذکورہ پابندیوں کو برمی رہنمائوں او اور ان سے منسلک افراد تک محدود رکھا جائے۔

یورپی یونین نے برما کے خلاف 1996ء میں اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں جن کا مقصد ملک میں جمہوریت کی بحالی کی حوصلہ افزائی اور عشروں سے چلی آرہی فوجی حکومت کی جانب سے جمہوریت پسندوں اور نسلی اقلیتوں کے خلاف کاروائیوں کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔

سنہ 2010 کے اواخر میں برمی افواج نے اقتدار چھوڑنے کا اعلان کیا تھا جس کے چند ماہ بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں ایک برائے نام سول حکومت وجود میں آئی ہے جس میں سابق فوجی افسران کی اکثریت ہے۔

نئی حکومت نے گزشتہ ایک برس کے دوران میں کئی جمہوری اصلاحات کی ہیں اور عالمی برادری سے وعدہ کیا ہے کہ ملکی پارلیمان کی خالی نشستوں پر یکم اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات کا انعقاد شفاف اور آزادانہ طریقے سے کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG