رسائی کے لنکس

logo-print

برما کی جمہوریت پسند راہنما کی تھائی لینڈ کے دورے سے وطن واپسی


برما کے سرکاری میڈیا نے اپنے ایک اداریے میں عرصہ دراز میں پہلی بار جمہوریت پسند راہنما آنگ ساں سوچی کی تعریف کی ہے ۔ ملک میں سینسر شپ کے سخت ضابطوں میں اصلاحات سے چند ماہ قبل تک ایسا سوچا جانا بھی محال تھا۔

برما کے سرکاری اخبار ’ نیولائٹ آف میانمر‘ کی منگل کی اشاعت میں شامل ایک ادارتی مضمون ’ راہنما۔۔ جن سے میانمر کی امیدیں وابستہ ہیں‘ میں کہا ہے کہ ملک کے مستقبل کا کلی طورپر انحصار آنگ ساں سوچی اور صدر تھین سین کے درمیان تعاون پر ہے۔

حکومت کے ملکیتی اور وزارت اطلاعات کے زیر انتظام شائع ہونے والا یہ اخبار 2010ء میں اپنے گھر پر نظربندی سے رہا ہونے والی راہنما اورحزب اختلاف کی نو منتخب لیڈر کو اس سے قبل معمولی کوریج دے چکا ہے۔

نوبیل انعام یافتہ جمہوریت پسند راہنما اتوار کو تھائی لینڈ کے اپنے دورے سے واپس وطن پہنچی تھیں۔ تھائی لینڈ کایہ دورہ گذشتہ 24 برسوں کے دوران ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔

ان کے اس دورے کو برما کی حالیہ سیاسی اصلاحات پر سوچی کے اعتماد کے طورپر دیکھا جارہاہے۔ کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں حکام انہیں وطن واپس آنے کی اجازت نہ دیں، برما سے باہر جانے سے انکار کردیا تھا۔

لیکن اخبار نے بنکاک میں منعقدہ ایک اقتصادی فورم میں آنگ ساں سوچی کی تقریر کے اس جملے پر نکتہ چینی کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دنیا کو برما کی برائے نام سویلین حکومت کے تحت کی جانے والی سیاسی اصلاحات اور معاشی پیش رفت سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہیں۔

مصنف نے کہاہے کہ کسی شخص کو بھی برما کے بارے شہبات پیدا نہیں کرنے چاہیں، کیونکہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔

ادارتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ آنگ ساں سوچی اور صدر تھین سین کے درمیان باہمی اعتماد برما کے مستقبل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ اداریے میں اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ باہمی اعتماد کی بنیاد پر دونوں راہنما ملک کر کام کرسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG