رسائی کے لنکس

logo-print

برما کی فوج پر نسلی گروہ پر مظالم ڈھالنے کا الزام


برما کی فوج پر نسلی گروہ پر مظالم ڈھالنے کا الزام

انسانی حقوق کی علمبراد تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے برما کے فوجیوں کو شمالی ریاست کیچن کے رہائشیوں کے قتل اور انھیں غلام بنانے جیسے سخت مظالم ڈھانے پر مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

برما کی فوج نے جون میں علیحدگی کی جدوجہد میں مصروف باغی فوج کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ برمی فوج نے ریاست کیچن کے متعدد دیہاتوں پر حملہ کیا اور رہائشیوں کو گرفتار کر کے ان کی زمین اور دیگر سامان پر قبضہ کر لیا۔

انسانی حقوق کی علمبراد تنظیم کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے کیچن باشندوں سے جبری مشقت کروائی اور متعدد افراد کوسخت تفتیش میں شامل کیا۔

تنظیم نے بتایا کہ فوجی کارروائی کے باعث کیچن کی 30 ہزار آبادی کو کئی دن تک قریبی پہاڑوں اور جنگلوں میں پناہ لینا پڑی۔

گروپ کا کہنا ہے کہ رواں سال جولائی اور اگست میںزمینی حقائق جاننے کے لیے مشن بھیجا گیا تھا۔ قبل ازیں لڑائی کے آغاز میں برمی فوج پر کیچن کی 18 خواتین کو ہراساں کرنے کا الزام تھا۔

برمی فوج پر الزام عائد کرنے والی خواتین میں امریکی سینیٹر اور امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی خواتین کا گروپ بھی شامل ہیں۔ جس میں سے ایک برما کی حزب اختلاف کی قائد آنگ سان سوچی بھی ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ ریاست کیچن میں تشدد کے واقعات نے اقوام متحدہ کے جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کے لیے تحقیقاتی کمیشن بنانے کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔

سب سے پہلے کمیشن کے قیام کا مشورہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تحقیقات پر مامور تھامس کیٹینا نے دیا تھا۔ جس کو بعد امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور 12 یورپی ممالک نے بھی کمیشن کے قیام پر زور دیا تھا۔

امریکہ نے برما کو کہا ہے کہ بین الاقوامی پابندیاں اٹھانے سے پہلے شمالی ریاست میں نسلی فسادات ختم کئے جائیں۔

XS
SM
MD
LG