رسائی کے لنکس

logo-print

برما کو بیرونی امداد اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے: آنگ ساں سوچی


حزب اختلاف کی راہنما آنگ ساں سوچی نے اپنے تاریخی یورپی دورے کے موقع پرجنیوا میں برما میں جاری جمہوری اصلاحات کے فروغ کے لیے بین الاقوامی کمیونٹی سے مدد اور سرمایہ کاری کی اپیل کی ہے ۔

برما کی پارلیمنٹ کی نو منتخب رکن نے جمعرات کو انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن سے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے ملک کی حکومت کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اصلاحات کرے۔

انہوں نے یہ تقریر ایک ایسے موقع پر کی ہے جب دنیا بھر میں مزوروں کی صورت حال پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے ایک ادارے آئی ایل او نے برما پر عائد پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ برما کی حکومت کے اس وعدے کے بعد کیا گیا ہے کہ وہ 2015تک ملک میں جبری مشقت کا خاتمہ کردے گی۔

آنگ ساں سوچی نے برما کے مغربی صوبے راکین میں گذشتہ ایک ہفتے سے بودھ اور مسلمان کمیونٹی میں جاری مہلک جھڑپوں پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG