رسائی کے لنکس

logo-print

سوچی کا نام انتخابی فہرست میں شامل


برما کے حکام نے نظر بند رہنماء آنگ سان سوچی کا نام سات نومبر کو ہونے والے انتخابات کی رائے دہندگان کی ضمنی فہرست میں شامل کرلیا ہے ۔جس کے بعد وہ اپنا ووٹ ڈال سکیں گی۔

اس سے قبل پیر کو جاری ہونے والی فہرست میں نوبل انعام یافتہ سوچی کا نام شامل نہیں کیا گیا تھا اور یہ فیصلہ برما کے انتخابی قوانین کے مطابق تھا جو سزایافتہ قیدیوں کو ووٹ دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ برما کو سوچی کا نام انتخابی فہرست میں شامل نہ کرنے پر عالمی میڈیا میں تنقید کا سامنا تھا۔

ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ سوچی انتخابات کے روز ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے باہر نہیں جاسکیں گی کیونکہ ان کی نظر بندی کی معیاد نومبر کے اواخر میں ختم ہوگی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ حکام سوچی کا ووٹ لینے ان کے گھر جاسکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان مارک ٹونر کا کہنا ہے کہ امریکہ کے نزدیک کے اس اقدام کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ برما کی حکومت کو چاہیئے کہ وہ سوچی کو رہا کرے اور ان سے حقیقی مذاکرات کرے۔

آنگ سان سوچی بدستور انتخابات میں بحیثیت امیدوار حصہ نہیں لے سکتیں۔ رواں سال کے اوائل میں انتخابی عمل میں اندراج سے انکار کے بعد سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کو تحلیل کردیا گیا تھا۔ سوچی کے کہنا تھا کہ یہ انتخابات غیر منصفانہ ہیں۔

سات نومبر کو ہونے والے انتخابات میں نیشنل پارلیمنٹ کی 498 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG