رسائی کے لنکس

logo-print

'گھر کا چولہا ٹھنڈا ہو گیا، اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہیے'


ٹھارہ سالہ مقتولہ بس ہوسٹس مہوش ارشد کی والدہ رمضانہ کوثر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف انصاف چاہیے۔

صوبہ پنجاب کے وسطی شہر فیصل آباد میں رواں ماہ 9 جون، 2018 کو شادی سے انکار پر قتل ہونے والی مہوش کے قاتل عمر دراز کا عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔

بتایا جاتا ہے کہ ملزم عمردراز نے فیصل آباد کی نجی بس سروس کمپنی الہلال ٹریولز کی بس ہوسٹس کو شادی سے انکار پر بس ٹرمینل پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اٹھارہ سالہ مقتولہ بس ہوسٹس مہوش ارشد کی والدہ رمضانہ کوثر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف انصاف چاہیے۔ انہیں اپنی بیٹی پر فخر ہے جس نے اپنی عزت بچانے کے لیے جان دے دی۔ رمضانہ کوثر کے مطابق وہ ملزم عمر دراز کو نہیں جانتی نہ ہی کبھی ان کی بیٹی سے اس کا پہلے کبھی کوئی ذکر سنا تھا۔

"میرے چار بچوں میں سے میری بیٹی گھر کی اکیلی کمانے والی تھی جس نے اپنی عزت بچائی ہے اور اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ میری حکومت سے اپیل ہے کہ وہ ہمارے ساتھ انصاف کرے"۔

فیصل آباد کے چیف پولیس افسر اطہر اسماعیل نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم عمردراز کے خلاف تحقیقات چل رہی ہے۔ جلد ہی پولیس کسی نتیجے پر پہنچ جائے گی۔ ملزم عمردراز کے خلاف فیصل آباد کے پولیس تھانہ سرگودھا روڈ کے ایس ایچ او ارم شاہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مقتولہ مہوش ارشد نے اس سے شادی کو وعدہ کیا تھا۔ پولیس کو دئیے گئے بیان کے مطابق ملزم عمرداراز مقتولہ بس ہوسٹس اور اس کی والدہ کو پیسے اور تحائف بھی دیتا رہا ہے، مگر اب دونوں ہی شادی سے انکار کر رہی ہیں۔

ملزم عمردراز ایک دوسری نجی بس کمپنی کوہستان ٹریولز میں بطور سیکورٹی گارڈ کام کیا کرتا تھا۔ کوہستان ٹریولز کے اڈہ مینیجر کے مطابق مقتولہ بس ہوسٹس اس سے قبل انہی کے بس اڈہ پر ملازمت کیا کرتی تھی جہاں سے اس کی سیکورٹی گارڈ عمردراز سے دوستی ہوئی۔ ایک دن دوران سفر دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ بس میں لگے خفیہ کیمرے نے ان کی لڑائی کے مناظر محفوظ کیے جسے مہوش کی ایک دوست نے سوشل میڈیا پر چڑہا دیا۔ اس کے کچھ ہی دن بعد وہ اچانک ملازمت چھوڑ کر چلی گئی۔ الہلال بس اڈہ کے خفیہ کیمروں اور پولیس کے مطابق ملزم عمردراز کو مہوش کی بس کے آنے اور جانے کے اوقات معلوم تھے۔ لہذا وہ پہلے سے ہی بس اڈا پر موجود تھا۔ جونہی مہوش اپنی ڈیوٹی ختم کر کے بس اڈے پر ہی موجود اپنے ہوسٹل جا رہی تھی تو ملزم ارشد نے بس ہوسٹس کو پہلے اپنے ساتھ لے جانا چاہا، جس کے انکار پر مہوش کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ ملزم کو بس اسٹینڈ کے ملازمین نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق نجی بس کمپنی الہلال ٹریولز کی بس ملتان سے فیصل آباد آ رہی تھی۔

عورت فاونڈیشن کی کنسلٹینٹ سمیرا سلیم نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے۔ پاکستانی معاشرے میں عورت کہیں بھی محفوظ نہیں نہ گھر پر نہ گھر سے باہر نہ ہی اپنے کام پر۔ سمیرا سلیم نے کہا کہ یہاں عورت کو صرف اس لیے جان سے مار دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی ہے، یا شادی سے انکار کرتی ہے۔

بس ہوسٹس مہوش ارشد کے قتل کی خبر رواں ماہ 16 جون، 2018 کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور مقامی میڈیا پر نشر ہونے کے بعد صوبہ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG