رسائی کے لنکس

logo-print

روسی خاتون نے عدالت میں امریکہ کے خلاف سازش کرنے کا الزام قبول کر لیا


فائل: ماریا بوٹینا

ایک روسی خاتون، جس پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے روس کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے امریکی پالیسی ماسکو کے حق میں کرنے کے لیے طاقت ور گن لابی میں داخل ہونے کی کوشش تھی، وفاقی پراسیکیوٹرز کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت جمعرات کے روز ایک فیڈرل کورٹ میں سازش میں حصہ لینے کا الزام قبول کرلیا، جس سے پراسیکیوٹرز کو امریکی سیاست میں روس کی دخل اندازی کے متعلق معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

واشنگٹن میں قائم امریکن یونیورسٹی کی سابق گریجوایٹ سٹوڈنٹ ماریا بوٹینا، جو اسلحہ رکھنے کے حق کی کھلم کھلا حمایت کرتی تھی، واشنگٹن میں ایک ڈسٹرکٹ جج تانیا چوٹکان نے سامنے پیش ہوئی۔ اس نے پراسیکیوٹرز کے ساتھ تعاون کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی۔

بوٹینا پر وفاقی پراسیکیوٹرز نے جولائی میں یہ الزام لگایا تھا کہ وہ روسی حکومت کے ایک ایجنٹ کے طور پر کام کر رہی تھی اور وہ ماسکو کی طرف سے کردار ادا کرنے کی سازش کا حصہ تھی۔ جمعرات کی سماعت کے دوران شروع میں بوٹینا نے خود پر عائد کیے جانے والے الزام قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پراسیکیوٹرز نے بوٹینا پر، جو اب سزا سنائے جانے کی سماعت کی منتظر ہے، الزام لگایا تھا کہ وہ ایک روسی عہدے دار اور دو امریکی شہریوں کے ساتھ نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے اندر گھسنے کی کوشش کررہی تھی۔ یہ تنظیم امریکہ کی ری پبلیکن پارٹی اور اس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی رابطے رکھتی ہے۔ بوٹینا اس گروپ کے ذریعے امریکی پالیسی کا جھکاؤ ماسکو کے حق میں کرنے کے لیے کام کر رہی تھی۔

اگرچہ امریکی قانون میں یہ جرم قبول کرنے کی سزا کے متعلق کوئی راہنمائی موجود نہیں ہے لیکن بوٹینا کے وکیل رابرٹ ڈریسکول کا اندازہ ہے کہ اسے چھ مہینے تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ سزا پوری کرنے کے بعد ممکنہ طورپر اسے روس بھیجے جانے کے لیے ڈی پورٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔

عدالت میں بوٹینا کے جرم کے متعلق جو بیان پڑھا گیا اس میں کہا گیا تھا کہ بوٹینا نے مارچ 2015 میں’ ڈپلومیسی پراجیکٹ ‘ کا مسودہ تیار کیا تھا جس میں روس کی مدد کے لیے اعلیٰ امریکی عہدے داروں سے رابطوں کے لیے غیر سرکاری بیک چینلز قائم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

بوٹینا نے یہ تسلیم کیا کہ اس مسودے کے ایک حصے کے طور پر اس نے دو امریکیوں اور ایک روسی عہدے دار کے ساتھ سازش تیار کی تھی۔

بوٹینا کے وکیلوں نے اس سے قبل روسی عہدے دار کے طور پر روس کے مرکزی بینک کے ایک ڈپٹی گورنر الیکزینڈر ٹورشین، کی نشاندہی کی تھی۔ امریکہ کے محکمہ مالیات نے ان پر اپریل میں پابندیاں لگا دی تھیں۔

سازش میں شامل دو امریکیوں میں سے ایک کا نام پال ایرکسن تھا جو امریکی کی ایک قدامت پسند پارٹی کا سرگرم کارکن تھا اور بوٹینا کے ساتھ ڈیٹنگ کر رہا تھا۔ تاہم پراسیکیوٹرز نے عدالت میں اس کا نام لینے سے اجتناب کیا اور اسے پارٹی نمبر ایک کہا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی نمبر ایک نے بوٹینا کو مشورہ دیا کہ وہ امریکی سیاست دانوں کے اجلاسوں کو اپنا ہدف بنائے اور اس سلسلے میں اس نے مدد بھی کی اور اس منصوبے کو روسی عہدے دار کی ایما پر آگے بڑھایا گیا۔

عدالت میں پراسیکیوٹرز کی جانب سے پیش کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا کہ بوٹینا کے مطابق حالات اس کے لیے ساز گار تھے اور اس نے امریکی سیاسی پارٹی سے کچھ رابطے بنانے میں کامیابی حاصل کی جو غالباً ری پبلیکن پارٹی تھی۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ ’ڈپلومیسی پراجیکٹ‘ کا مسودہ بوٹینا نے پارٹی نمبر 1 کی مدد سے تیار کیا تھا۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے بوٹینا نے ایک امیر ارب پتی روس شخص سے درخواست کی کہ وہ اسے ایک لاکھ 25 ہزار ڈالر فراہم کرے۔

اپریل 2015 میں بوٹینا نے گن رائٹس ایسوسی ایشن کی تقریب میں شرکت کی۔

بوٹینا پر الزام عائد کیے جانے اور اس جانب اشارہ کرنے کے بعد کہ وہ عدالت میں اپنے جرم کا اقرار کر سکتی ہے، روس نے اپنے ردعمل میں اس کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے۔ روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے منگل کے روز ماسکو میں بوٹینا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اسے 15 سال کے لیے جیل کی سزا کا خطرہ ہے۔ لیکن کس جرم کے لیے؟ میں نے اپنی تمام انٹیلی جنیس سروسز کے سربراہوں سے پوچھا ہے کہ یہ سب کیا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی بوٹینا کے متعلق نہیں جانتا۔

بوٹینا کے کیس میں پراسیکیوٹرز کا تعلق خصوصی تحقیقاتی افسر رابرٹ ملر سے نہیں ہے جو 2016 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ماسکو کے مدد سے الیکشن جیتنے کی سازش کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

بوٹینا کی جانب سے جرم کا إقرار کرنے کے بعد وہ پہلی ایسی روسی شہری بن گئی ہیں جسے 2016 کے انتخابات میں امریکی پالیسی پر روس کے اثرانداز ہونے سے متعلق سزا دی جائے گی۔ ملر نے کئی روسی شہریوں اور عناصر پر فوجداری الزامات لگائے ہیں لیکن یہ مقدمات ابھی التوا میں ہیں۔

بوٹینا نے سن 2015 میں لاس ویگاس کے کنونشن میں ٹرمپ سے، جو اپنی صدارتی انتخابی مہم چلا رہے تھے، روس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اور صدر براک اوباما کی جانب سے روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے بارے میں سوال پوچھا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ پوٹن کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہیں گے اور میرا نہیں خیال کہ ہمیں ان پر پابندیاں لگانے کی ضرورت پڑے گی۔

صدر ٹرمپ روس کے ساتھ کسی سازباز کے الزام کو مسترد کر چکے ہیں۔ روس بھی امریکی سیاست میں دخل اندازی سے انکار کر چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG