رسائی کے لنکس

حلقے میں مجموعی طور پر 92 پولنگ اسٹیشنز تھے ان میں سے صرف ایک اسٹیشن سے بدمزگی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

کراچی کے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 114 میں اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی 23 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں۔

حلقے سے سن 2013 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں عرفان اللہ خان مروت جیتے تھے تاہم ان کی فتح عدالت میں چیلنج کی گئی۔

عدالت نے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ انتخابات کرانے کے احکامات جاری کئے تھے۔

حلقے میں انتخابی مہم شروع ہونے سے اب تک پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ رہا۔

متحدہ قومی موومنٹ نے کامران ٹیسوری کو میدان میں اتارا تھا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر سعید غنی ان کے مقابلے پر تھے۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے علی اکبر گجر، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نجیب ہارون نے انتخاب لڑا۔

مسلم لیگ ن کے امیدوار علی اکبر گجر
مسلم لیگ ن کے امیدوار علی اکبر گجر

غیر حتمی، غیر سرکاری اور ابتدائی میڈیا اطلاعات کے مطابق سعید غنی پہلے، کامران ٹیسوری دوسرے اور مسلم لیگ ن کے امیدوار تیسرے اور پی ٹی آئی کے نجیب ہارون چوتھے نمبر پر رہے۔

اطلاعات کے مطابق سعید غنی نے 23840 ووٹ حاصل کئے۔ کامران ٹیسوری نے 18ہزار 106 ووٹ حاصل کئے۔ علی اکبر گجر نے 5 ہزار 353 اور نجیب ہارون نے 5 ہزار 98ووٹ حاصل کئے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار حلقے کا دورہ کرتے ہوئے
ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار حلقے کا دورہ کرتے ہوئے

حلقہ دن بھر سیاسی گہما گہمیوں، راہنماؤں کی آمدورفت، کارکنوں کے نعروں، الزامات اور ایک دوسرے کے مقابل آنے کے واقعات سے گونجتا رہا۔

پی ٹی آئی کے راہنما جن میں عمران اسماعیل بھی شامل تھے انہوں نے ایم کیو ایم کے کیمپس کا خیر سگالی کا دورہ کیا اور ایم کیو ایم کے راہنماؤں سے ملاقات کی۔

تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی کے ایک رہنما عارف علوی نے مخالف پارٹیوں پر دھاندلی کے الزمات لگائے جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار سعید غنی نے رینجرز پر بھی متعصبانہ الزامات لگائے جس کی رینجرز کے ترجمان کی جانب سے سخت تردید کی گئی۔

ایم کیو ایم کے راہنما عامر خان نے الزام لگایا کہ پی پی سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے بھرپور دھاندلی کررہی ہے۔

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ عوام نے بغیرکسی خوف و خدشات کے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ حلقے میں مجموعی طور پر 92 پولنگ اسٹیشنز تھے ان میں سے صرف ایک اسٹیشن سےبدمزگی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اس حوالے سے دو افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔ تاہم مجموعی طور پر انتخابات پرامن طریقے سے انجام پائے اور کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔

انتخابات کے لئے پولیس اور رینجرز کی جانب سے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو پولنگ اسٹیشن کے باہر گھومنے یا اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG